365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 87 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 87

درس القرآن 87 درس القرآن نمبر 142 وو لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفْتٍ فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدِيكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة:200،199) ان دو آیات کی تفسیر گزشتہ درس سے جاری ہے اور اس بارہ میں حضرت مصلح موعود کا یہ لطیف نکتہ آپ کے الفاظ میں بیان ہو چکا ہے کہ ان تبتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ سے مراد صرف عام مالی تجارت ہی نہیں گو وہ بھی منع نہیں بلکہ اس سے مراد اس عظیم الشان فضل کے لئے کوشش اور جد وجہد اور دعا ہے کہ اسلام کی عالمگیر فتح کے لئے اس موقعہ پر کہ جب ساری دنیا سے مسلمان جمع ہیں دعا کی جائے اور تدابیر سوچی جائیں۔چونکہ اس فضل کے حصول میں مسلمانوں کی کمزوریاں حائل ہو چکی ہیں اس لئے خصوصیت سے ان آیات میں استغفار کا حکم ہے، چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔روحانی سر سبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا بھی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں میں استغفار کے نام سے موسوم کرتا ہے۔" ( نور القرآن نمبر 1 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 357) ایک بات جس کی طرف حکیمانہ رنگ میں ان دو آیات میں توجہ دلائی گئی ہے یہ ہے کہ حج کے ارکان چونکہ ایک خاص علاقے کے مختلف حصوں بیت اللہ ، صفا مروہ، منی، مزدلفہ میں ہوتے ہیں اور یہ حصے سب کے سب اس علاقہ میں ہیں جو حرم کہلاتا ہے اور مقدس بھی کہلاتا ہے اور امن کا علاقہ بھی سمجھا جاتا ہے اس لئے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس علاقہ کی حدود سے باہر نکلتے ہی سیلاب کی طرح تمام بند توڑ دو جہاں تک خدا کی عبادت اور بندوں کے حقوق کی حفاظت کا تعلق ہے وہ حرم کے علاقہ میں بھی اسی طرح فرض ہے اور حرم کی حدود سے باہر بھی اسی طرح فرض ہے۔خدا کے حقوق کی بجا آوری اور انسانوں کے حقوق کا تحفظ دنیا کے چپے چپے پر ضروری