365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 55 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 55

درس القرآن 55 درس القرآن نمبر 121 وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيوةٌ يَأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة:180) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے جس طرح انسانی زندگی کی حفاظت کے لئے کھانے پینے کی ضرورت ہے اس طرح انسانی جان کی حفاظت کے لئے قصاص کے نظام کی ضرورت ہے اس لئے عبادات اور احکامات شریعت کی تفاصیل کے بیان سے پہلے ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانی زندگی کی حفاظت کے لئے ضروری ہیں۔اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔“فرماتا ہے اے عظمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے۔اسے کبھی نہ چھوڑنا۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرنے والا تو مر گیا اب اگر اس کے قاتل کو قتل کر دیا جائیگا۔تو مقتول تو زندہ نہیں ہو سکتا پھر قصاص میں حیات کس طرح ہوئی ؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر قاتل کو قتل نہ کیا جائے تو بالکل ممکن ہے کہ کل وہ کسی دوسرے کو قتل کر دے اور پرسوں کسی اور کو مار ڈالے اس لئے فرمایا کہ قصاص میں زندگی ہے۔پھر اس رنگ میں بھی قصاص حیات کا موجب ہے کہ جب قاتل کو سزا مل جاتی ہے تو رشتہ داروں کے دلوں میں سے بغض اور کینہ نکل جاتا ہے اور مقتول کی عزت قائم ہو جاتی ہے۔پس قصاص مقتول کی عزت قائم کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔۔۔اس آیت میں موجودہ زمانہ کے متعلق ایک پیشگوئی بھی پائی جاتی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے۔کہ ایک وقت آنے والا ہے جبکہ قصاص کو اڑانے کی تلقین کی جائیگی۔اس وقت تم مضبوطی سے اس تعلیم پر قائم رہنا جیسے آج کل بعض یوروپین ممالک میں اس قسم کی تحریکات وقتا فوقتا اٹھتی رہتی ہیں کہ موت کی سزا منسوخ ہونی چاہیے۔” ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 365،364 مطبوعہ ربوہ) پھر فرماتے ہیں:۔“ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کے ایک اور معنے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ان الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی کی تمہیں اس لئے ضرورت ہے کہ تم اور تقویٰ حاصل کر لو۔گویا بتایا کہ بے فائدہ جان گنوانا اس لئے قابل احتراز ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے اس میں رہنے سے آخرت کا توشہ انسان جمع کر لیتا ہے پس اس کی حفاظت بھی ضروری ہے تاکہ تم تقویٰ حاصل کر سکو۔غرض ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے وجہ بتادی کہ مومن باوجود آخرت پر ایمان رکھنے کے زندگی کی کیوں قدر کرتا ہے۔”( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 365 مطبوعہ ربوہ)