365 دن (حصہ دوم) — Page 42
درس القرآن 42 زندہ کیا وَ بَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دیے و تَصْرِيفِ الرّيحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخر کیا لایت لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرة : 165) یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید اور اس کے الہام اور اس کے مدبر بالا رادہ ہونے پر نشانات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے مذکورہ ترجمہ کے بعد فرماتے ہیں:۔“ اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانون قدرت سے کیا یعنی اپنی ان مصنوعات سے جو زمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بیشک اس عالم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہ لا شریک اور مدبر بالا رادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے۔" جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 125)