365 دن (حصہ دوم) — Page 40
درس القرآن 40 درس القرآن نمبر 109 إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا انْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيْنَهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَبِ أولبِكَ يَلْعَنْهُمُ اللهُ وَيَلْعَنْهُمُ اللَّعِنُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَ أَصْلَحُوا وَ بَيَّنُوا فَأُولَبِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَابُ الرَّحِيمُ إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَارُ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَيْكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خُلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفْ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظُرُونَ (البقرة: 160 تا 163) سابقہ قبلوں کو چھوڑ کر بیت اللہ کو قبلہ بنانا اور سابقہ مذاہب کو چھوڑ کر اسلام کو اپنا مذہب بنانا ایک بہت بڑی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے اور اس مضمون کو گزشتہ آیات میں بیان کر کے بتایا تھا کہ مسلمان ہونے والوں کو صبر اور دعا کے ذریعہ اللہ سے مدد مانگنی چاہیئے اور اس سلسلہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا اور اس کی یاد دہانی کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو حج اور عمرہ کی عبادت کا حصہ قرار دیا۔آج کی ان چار آیات میں یہ مضمون ہے کہ بے شک اسلام لانے اور قرآن میں واضح طور پر دلائل کے ساتھ بیان شدہ ہدایت کو قبول کرنا اور مخالفتوں اور قربانیوں کو برداشت کرنا مشکل کام ہے مگر فرماتا ہے کہ جو لوگ ان روشن دلائل اور ہدایت کو جو ہم نے لوگوں کے لئے قرآن میں کھول کر بیان کر دیئے ہیں چھپائیں۔ان کے لئے ان مخالفتوں اور قربانیوں کو بر داشت کرنے سے بہت زیادہ دکھ کا سامان ہے اور وہ یہ کہ ایسے لوگوں پر لعنت کرتا ہے اور ان پر سب لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔گو تو بہ اور اصلاح کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا، ہاں مگر جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور اس صداقت کو جو اللہ کی طرف سے آئی ہے کھول کر بیان کر دیا تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر میں تو بہ قبول کرتے ہوئے جھکوں گا اور میں تو بہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہوں اور وہ لوگ جو اس کامل صداقت سے انکار کرتے ہیں اور کفر کی حالت میں ہی مر گئے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کے اور تمام انسانوں کی۔اور اس لعنت میں وہ ایک لمبے عرصہ تک رہنے والے ہوں گے ان پر سے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی وہ مہلت دیئے جائیں گے۔