365 دن (حصہ دوم) — Page 165
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 46 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔165 بلند ہمتی : ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ہمت اخلاق فاضلہ میں سے ہے اور مومن بڑا بلند ہمت ہوتا ہے ہر وقت خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید کے لیے تیار رہنا چاہیے اور کبھی بزدلی ظاہر نہ کرے بزدلی منافق کا نشان ہے۔مومن دلیر اور شجاع ہو تا ہے مگر شجاعت سے یہ مراد نہیں کہ اس میں موقع شناسی نہ ہو موقع شناسی کے بغیر جو فعل کیا جاتا ہے وہ تہور ہو تا ہے مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی بلکہ وہ نہایت ہو شیاری اور تحمل کے ساتھ نصرت دین کے لیے تیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہوتا۔انسان سے کبھی ایسا کام ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے مثلاً کسی سائل کو اگر دھکا دیا تو سختی کا موجب ہو جاتا ہے اور خد اتعالیٰ کو ناراض کرنے والا فعل ہو تا ہے اور اسے توفیق نہیں ملے گی کہ اسے کچھ دے سکے ، لیکن اگر نرمی یا اخلاق سے پیش آوے گا اور خواہ اُسے پیالہ پانی ہی کا دیدے تو وہ ازالہ قبض کا موجب ہو جاوے گا۔تبض و بسط : انسان پر قبض و بسط کی حالت آتی ہے۔بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھتی ہے۔نمازوں میں لذت اور سرور پیدا ہو تا ہے لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ذوق اور شوق جاتارہتا ہے اور دل میں ایک تنگی کی سی حالت ہو جاتی ہے۔جب یہ صورت ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کیساتھ استغفار کرے اور پھر درود شریف بہت پڑھے۔نماز بھی بار بار پڑھے۔قبض کے دور ہونے کا یہی علاج ہے۔" مشکل الفاظ اور ان کے معانی: وو ( ملفوظات سوم صفحہ 7،6 مطبوعہ ربوہ) تہور بے موقع، بغیر سوچے سمجھے زور آزمائی طاقت کا استعمال کرنا شتاب کاری جلد بازی