365 دن (حصہ دوم) — Page 142
درس حدیث 142 درس حدیث نمبر 69 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی ا ولم نے فرمایا إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَامِكُمْ وَلَا إِلى صُوَرِكُمْ وَلكِنْ يَنْظُرُ إِلى قُلُوبِكُمْ (مسلم کتاب البر والصلۃ والادب باب تحریم ظلم المسلم حديث نمبر 6542) یہ مختصر سی حدیث جو آج میں نے پڑھی ہے اگر انسان اس پر غور اور توجہ کر کے عمل کرے تو شاید انسان کی اور انسان کے معاشرہ کی بیسیوں بلکہ سینکڑوں مشکلات اور پریشانیوں اور الجھنوں سے نجات دے سکتی ہے۔آپ اگر اپنے گھر یا اپنے ماحول کا مشاہدہ کریں تو آپ کو نظر آئے گا کہ انسان اپنی شکل و صورت کو بہتر بنانے کے لئے کیا کیا جتن کرتا ہے اور خصوصاً خواتین اور کم عمر کے مردوں کے لئے تو یہ بہت ہی سخت مسئلہ بن جاتا ہے۔پکے رنگ والے اپنے رنگ کو سفید بنانے کے لئے تڑپتے ہیں۔سر کے بالوں کی گنج دور کرنے کے لئے لوگ کیا کیا نسخے استعمال کرتے ہیں چھوٹے قد والے اپنا قد لمبا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔بھینگی آنکھوں والے اپنی آنکھوں کو سیدھا کر وانے کے لئے ڈاکٹروں سے کھینچا تانی کرواتے ہیں۔کچھ لوگ صرف خوبصورت بننے کے لئے پلاسٹک سرجری کی خاطر غیر ممالک کا سفر کرتے ہیں اور ہزاروں ڈالر خرچ کرتے ہیں جبکہ ان کے ہمسائے میں خاندان روکھی سوکھی روٹی کو ترس رہے ہوتے ہیں۔بدن اور شکل کی خاطر کروڑوں کروڑ روپیہ کے شیمپو، کریم ،Colour اور خدا جانے کیا الا بلا کا بزنس ہوتا ہے اور بدن کی خاطر فیشن ایبل ملبوسات کا کاروبار بھی اربوں روپیہ میں جاتا ہے ، پھر اس کے ساتھ ذہنی الجھنیں اور تمنائیں اور آرزوئیں ہیں۔مگر ہمارے نبی صلی ا یہ کام اس حکمت اور دانائی سے بھری ہوئی حدیث میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نظر نہ تمہارے جسموں پر ہے نہ تمہاری شکلوں پر ہے اس کی نظر تمہارے دل و دماغ پر ہے۔نہ تمہاری شکل خدا کے حضور وقعت رکھتی ہے ، نہ تمہارا بدن خدا کو اچھا لگتا ہے بلکہ تمہارے دماغ کی سوچ اور تمہارے دل کی پاکیزگی اس کی نظر میں مقبول ہے۔بے شک ہمارے نبی صلی الم نے جسم کی زیب وزینت اور لباس کی صفائی کا حکم بھی دیا ہے مگر یہ چیزیں صرف ایک چھلکا ہیں اور دل و دماغ کی پاکیزگی مغز کی حیثیت رکھتی ہے۔