365 دن (حصہ دوم) — Page 137
درس حدیث 137 درس حدیث نمبر 65 حضرت ابوہریر ہؓ بیان کرتے ہیں کہ اَنَّ رَسُولَ الله له الله قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيْبَةُ؟ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيْلَ أَفَرَتَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ كَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيْهِ فَقَدْ بَهَنَّهُ (مسلم کتاب البر والصلۃ والادب باب تحريم الغيبة حديث نمبر 6593) قرآن شریف کی سورۃ الحجرات میں دس بارہ کے لگ بھگ ایسی باتوں کا ذکر ہے جو لوگوں اور دوستوں اور رشتہ داروں کے تعلقات میں فساد پیدا کرتے ہیں اور قوموں اور قبیلوں اور خاندانوں میں جھگڑے کا باعث بنتے ہیں ان باتوں میں جن سے منع کیا گیا ہے شاید سب سے زیادہ زور غیبت کی ممانعت پر دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَغْتَب بَعْضُكُم بَعْضًا (الحجرات:13) کہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے ا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ اخِيهِ مَيْتًا کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے فوت شدہ بھائی کا گوشت کھائے۔اب ذرا تصور کریں اس بات کا ایک شخص کا بھائی فوت ہو گیا ہے اس کے ماں باپ اپنے بیٹے کی وفات کے غم میں نڈھال پڑے ہیں، اس کی بیوی خاوند کی مستقل جدائی سے تڑپ رہی ہے ، اس کے بیٹے، بیٹیاں اپنے شفقت کرنے والے باپ کی وفات کے غم میں آنسو بہارہے ہیں مگر مرنے والے کا بھائی اٹھتا ہے اور بھائی کی لاش سے گوشت کاٹ کر کھاناشروع کر دیتا ہے۔کیا آپ اس کا تصور بھی کر سکتے ہیں؟ مگر قرآن شریف جو سب کچھ جاننے والے کا کلام ہے یہ فرماتا ہے کہ جو شخص کسی آدمی کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت کرتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔بعض دفعہ لوگ غیبت کے شوق میں کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم جو بات کر رہے ہیں وہ بالکل سچ ہے اور جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں یہ یہ بات پائی جاتی ہے۔ہمارے نبی صلی علیہ کم نے اس بارہ میں فرمایا: جانتے ہو غیبت کیا ہوتی ہے ؟ صحابہ کرام نے حسب معمول ادب سے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔حضور صلی ا ولم نے فرمایا اگر تم کسی شخص کی غیر کی موجودگی میں کسی شخص کے متعلق بات کرو جو اس میں پائی جاتی ہے تو یہ غیبت ہے اور اگر تم کوئی ایسی بات اس کے متعلق بیان کرو جو اس میں نہیں پائی جاتی تو یہ تو بہتان ہے۔