365 دن (حصہ اول) — Page 81
درس القرآن 81 رس القرآن نمبر 66 قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (البقرة : 98) بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کا ایک غیر معمولی پہلو بیان کیا ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علم کی دشمنی میں اس عظیم فرشتے سے بھی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں جو تمام روحانی تحریکات کو اللہ تعالیٰ سے حاصل کر کے انسانوں کے دلوں میں ملا ئکہ کے ذریعہ پہنچاتا ہے۔فرماتا ہے مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ کہ جو جبریل کا دشمن ہے فَإِنَّهُ نَزِّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ باذن اللہ تو وہی جس نے تیرے دل پر اللہ کے حکم سے کلام اتارا ہے اشارہ یہ ہے کہ تیرے دل جیسا دل ہو اور اس پر جو کلام اتارا گیا ہو وہ باذن الله ہو خدا کے حکم پر وہ کلام اترا ہو مُصَدِّقًا لمَا بَيْنَ يَدَيْهِ اور وہ کلام ایسا ہو کہ اس سے پہلے نازل شدہ کلام کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہوں اور اسی کلام کی تائید اور تصدیق کرتا ہو وھدی پھر ہر قسم کی رہنمائی، ہر مزاج اور ہر مقام کے آدمی کے لئے رہنمائی اس میں موجود ہو اور صرف رہنمائی نہ ہو بلکہ بشرى لِلْمُؤْمِنِينَ ان لوگوں کے لئے جو اس پر ایمان لائیں ان کے لئے دنیا و آخرت میں ملنے والی نعماء کی ہر طرح کی بشارتیں ہوں ایسے کلام کو ایسے دل پر نازل کرنے کا ذریعہ بننے والے فرشتہ سے دشمنی کرنا کتنی نادانی ہے۔اس لئے مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلهِ وَمَلَبِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَ جِبْرِيلَ وَمِيْكُلَ پس جو لوگ اس قسم کی نادانی میں مبتلا ہیں وہ یاد رکھیں کہ اللہ کے ملائکہ سے دشمنی کرنے والے، اللہ کے رسولوں سے جن پر یہ ملائکہ اللہ کا کلام اتارتے ہیں دشمنی کرنے والے اور جبریل سے جو تمام دلوں پر روحانی علوم اتارنے کا ذریعہ بنتا ہے۔دشمنی کرنے والے یا میکائیل سے جو تمام دماغوں کو ان روحانی علوم کی جو دلوں پر نازل ہوتے ہیں۔حکمت سکھانے کا ذریعہ بنتا ہے دشمنی کرنے والے جان لیں۔فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ تِلْكَفِرِينَ (البقرة : 99) کہ وہ ملائکہ اور رسولوں سے دشمنی مول نہیں لے رہے بلکہ خدا سے دشمنی مول لے رہے ہیں۔خدا ایسے کافروں کا دشمن ہے۔