365 دن (حصہ اول) — Page 71
درس القرآن 71 درس القرآن نمبر 58 وَإِذْ اَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَاءِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِى الْقُرْبى وَالْيَتَنى وَالْمَسْكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَ أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأَتُوا الزَّكَوةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ (البقرة:84) بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ذکر جاری رکھتے ہوئے اس آیت میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ جو تعلیم بنی اسرائیل کو دی گئی تھی صرف تعلیم کے طور پر نہیں دی گئی تھی بلکہ ایک نہایت پختہ عہد ان سے لیا گیا تھا کہ وہ اس تعلیم پر عمل کریں گے مگر اب دیکھ لو کہ وہ کیا اس عہد پر عمل کر رہے ہیں اور اگر وہ عمل نہیں کر رہے تو وہ کس منہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم میں سلسلہ نبوت جاری رہنا چاہیے تھا کیا وہ اس کے مستحق ہیں کہ عہد توڑتے ہوئے بھی خدا ان سے اپنا عہد پورا کرے۔دوسرا مضمون اس آیت میں یہ ہے کہ جس تعلیم کو یہ بنی اسرائیل چھوڑ بیٹھے ہیں وہ کوئی گھٹیا تعلیم بھی نہیں تھی نہایت خوبصورت اور اعلیٰ درجہ کی تعلیم تھی ایسی تعلیم تھی جس میں حقوق اللہ کا بھی پاس رکھا گیا تھا اللہ کے بعد انسانوں میں سے سب سے زیادہ ماں باپ انسان کے محسن ہیں ان کے حقوق بھی بتائے گئے تھے پھر دوسرے رشتہ داروں سے بھی حسن سلوک کی تعلیم دی گئی تھی۔شاید رشتہ داروں سے حسن سلوک تو لوگ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں مگر اس تعلیم میں ان کے حق میں بھی تعلیم تھی جن کے سروں سے ماں باپ کا سایہ اٹھ چکا ہو اور ماندہ بے کس محتاج لوگوں کے حقوق بھی بتائے گئے تھے۔اور باقی ساری انسانیت سے حسن کلام کا ارشاد تھا کہ کہیں تم اپنے آپ کو چنیدہ قوم سمجھ کر دوسروں سے بد سلوکی کرنے لگو ( جیسے آج کل کے یہودی خاص طور پر کرتے ہیں) اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے لئے تمہیں نماز کا حکم تھا حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے زکوۃ مقرر کی گئی تھی اب بتاؤ کہ کیا تم اس تعلیم پر عمل کر رہے ہو سوائے چند ایک لوگوں کہ تم اس تعلیم سے اعراض کرتے ہوئے پیٹھ پھیر رہے ہو۔