365 دن (حصہ اول) — Page 24
درس القرآن 24 درس القرآن نمبر 20 اوْ كَصَيِّبِ مِنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللهُ مُحِيطُ بِالكَفِرِينَ ( البقرة : 20) پچھلے درس میں ہم نے پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ طریق رکھا ہے کہ روحانی باتوں کو سمجھانے کے لئے جن کا سمجھنا ایک عام آدمی کے لئے آسان نہیں ہو تا دنیا کی ظاہری نظر آنے والی چیزوں سے مشابہت کے ذریعہ ان کی وضاحت فرماتا ہے ان لوگوں کی مثال جو دل سے ایمان نہیں لاتے چھپے ہوئے کافر ہوتے ہیں مگر زبان سے لوگوں کی مجلسوں میں کھل کر بڑے زور سے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اپنے آپ کو سچا مومن ظاہر کرنے کی قسمیں بھی کھا لیتے ہیں اس شخص کی طرح ہے جو بڑی کوشش سے آگ جلانے کی کوشش کرتا ہے اور آگ کی روشنی سے جب ارد گر د روشن ہو جاتا ہے تو چونکہ ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی اور ان کی کوشش خدا کے حضور قبول نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیتا مگر اس آگ سے جو روشنی ہوئی تھی وہ اندھیر ابن جاتی ہے کیونکہ یہ لوگ سچائی کے لئے نہ زبان سے ٹھیک کام لیتے ہیں، نہ کانوں سے اور نہ آنکھوں سے۔آج جو آیت پڑھی اس میں ایک اور مثال سے ان لوگوں کا نقشہ کھینچا ہے، فرماتا ہے کہ اچھی مفید اور بھر پور بارش کتنی اچھی ہوتی ہے، اس بارش کو عربی میں صیب کہتے ہیں، فرماتا ہے: ان کی مثال اس مفید اور اچھی اور بھر پور بارش کی طرح ہے فیهِ ظلمت و رعد و برق جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں یعنی اسلام کی اچھی اور مفید بارش کے ساتھ آزمائش بھی ہوتی ہے ، ابتلاء کی تاریکیاں بھی ہوتی ہیں۔اور اس میں گرج کی آواز بھی ہوتی ہے اور بجلی کی چمک بھی يَجْعَلُونَ اَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ یہ لوگ جو کمزور ایمان رکھتے ہیں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالتے ہیں، گرنے والی بجلیوں کے خطرہ سے حَذَرَ المَوتِ اور موت کے ڈر سے۔حالانکہ کانوں میں انگلیاں ڈال کر یہ سمجھنا کہ اس طرح بجلیوں کے خطرہ سے اور موت سے بچ جائیں گے ، نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔اصل پناہ تو اللہ ہے وَاللهُ مُحِيطٌ بِالْكَفِرِينَ کافروں کی طرف سے جو امتحان اور ابتلاء اور آزما نشیں آرہی ہیں ان