365 دن (حصہ اول) — Page 119
درس حدیث 119 رس حدیث نمبر 14 حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الم نے فرمایا مَنْ أَحَبَّ ان يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ( بخاری کتاب الأدب باب من بسط له فى الرزق بصلة الرحم5986) کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ جو اس کو رزق مل رہا ہے اس میں فراخی ہو اس کو رزق زیادہ ملے اور جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ اس کی عمر میں لمبی ہو، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے، نیک سلوک کرے۔ہمارے نبی صلی علیم نے اس حدیث میں ایک ایسی نیکی کی جو ہر شریف آدمی کا فرض ہے اور وہ لوگ بھی جو مذہب کو نہیں مانتے اس بات کو نیکی ہی سمجھتے ہیں کہ رشتہ داروں سے نیک سلوک کیا جائے۔اس نیکی کے دو ایسے پھل بتائے ہیں جو اکثر لوگوں کی اس دنیا میں خواہش ہوتی ہے، اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو رزق زیادہ ملے ، اکثر لوگ یہ خواہش کرتے ہیں کہ ان کی عمر زیادہ ہو، تھوڑے لوگ ہوں گے جو زیادہ مال نہ چاہتے ہوں، جن کو لمبی عمر کی خواہش نہ ہو، تو ہمارے نبی صلی علیم نے ایک اچھی نیکی کی ، جس کے کرنے میں انسان کو زیادہ مشکل اور محنت اور مصیبت بھی نہیں اٹھانی پڑتی دو ایسے بڑے فائدے بتائے ہیں جو اسی دنیا میں ہی انسان کو حاصل ہو جاتے ہیں اور اگلے جہان میں جاکر اس کے فائدے اور بھی ہیں۔انسان طبعاً یہ چاہتا ہے کہ اس کے ملک میں، اس کے علاقے میں، اس کے ماحول میں امن اور آرام اور آسائش ہو ، فساد نہ ہو، گڑ بڑ نہ ہو اور ظاہر ہے ملک اور علاقہ بنتا ہے انسانوں کے گھر سے ، کنبہ سے، خاندان سے۔اگر کنبہ و خاندان میں امن و امان ہو ، فساد اور تکلیف نہ ہو تو ملک اور علاقہ میں بھی فساد اور گڑ بڑ نہیں ہوگی اور انسان کو اچھا ماحول ملے گا اور اس کے مال میں بھی برکت ہو گی اور عمر میں بھی برکت پڑے گی۔