365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 92 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 92

درس القرآن رس القرآن نمبر 74 92 وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكَوةَ وَمَا تُقَدِمُوا لأنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِير ( البقرة: 111) بنی اسرائیل کا حضور صلی ال نیم کی نبوت اور قرآن مجید کے کلام الہی ہونے کا انکار دنیا کی مذہبی تاریخ کا بہت اہم واقعہ ہے اور بنی اسرائیل نے گزشتہ 14 سو سال میں جو مخالفت کی اس کا دنیا کی نہ صرف مذہبی تاریخ پر اثر پڑا ہے بلکہ دنیا کی عام تاریخ اور دنیا کی تاریخ میں ممالک کی تشکیل پر بھی اس کا گہرا اثر ہے۔قرآن شریف کے اس حصہ میں جہاں تفصیل کے ساتھ اس کش مکش کا ذکر ہے وہاں قرآن شریف کے طریق کے مطابق پیش آمدہ مسائل کا حل اور ان کے بارہ میں رہنمائی بھی کی گئی ہے چنانچہ اس آیت میں بنی اسرائیل کی اس لمبی کش مکش کے بیان کے دوران میں مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے کہ اگر وہ اس کش مکش کے تکلیف دہ نتائج سے بچنا چاہتے ہیں تو دو باتوں کی طرف توجہ کریں۔(1) حقوق اللہ (2) حقوق العباد۔حقوق اللہ کی طرف وَاقِیمُوا الصلوۃ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ نماز قائم کرو تمام شرائط کے ساتھ باجماعت نماز کی پابندی کر وجو ذکر الہی، دعا، تحمید و تسبیح و استغفار پر مشتمل ہے اور حقوق العباد کی طرف وَآتُوا الزَّکوة کی طرف توجہ کرو اور لوگوں کو اپنے مال سے فائدہ پہنچاؤ۔اگر ایسا کرو گے تو تمہاری کوششیں ضائع نہیں جائیں گی۔وَمَا تُقَدِ مُوالِانْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللہ تم جو نیک کام اپنے نفسوں کی خاطر آگے بھیجو گے اس کو خدا کے حضور پاؤ گے۔تمہارے یہ کام، تمہاری یہ جد وجہد پر خدا کی نظریں ہیں۔اِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ تم جو کام کرتے ہو اللہ ان کو خوب دیکھ رہا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ تم ان لوگوں کو سزا نہ دو(جیسا کہ پہلی آیت میں ذکر ہے۔ناقل) بلکہ اسے ہم پر چھوڑ دو چونکہ مسلمانوں پر گراں گزر سکتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جب تمہیں دشمن کے مقابلہ میں اپنی بے بسی کو دیکھ کر غصہ آئے اور تمہارے لئے صبر کرنا مشکل ہو جائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھک جاؤ اور نمازوں میں ہم سے دعائیں مانگ۔۔۔واتوا الزکوۃ اور دوسر ا علاج یہ ہے کہ تم زکوۃ کے ذریعہ غرباء کی مدد کرو۔بتائی و مساکین اور بیوگان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔“ تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 114-115 مطبوعہ ربوہ)