365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 91 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 91

درس القرآن 91 رس القرآن نمبر 73 وَذَ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَ اصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ ( البقرة : 110) یہ آیت اہل کتاب کی اسلام کے خلاف کوششوں کا ذکر کر کے پھر ان کے اس زبر دست پر اپیگنڈا کا قلع قمع کرتی ہے جو کئی صدیوں سے عالمی سطح پر نہایت زور سے کیا جارہا ہے، فرماتا ہے : اہل کتاب میں سے بہت سے ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ کاش تمہارے ایمان لانے کے بعد ایک دفعہ پھر کافر بنادیں اس حسد کی وجہ سے جو ان کے دلوں میں ہے وہ ایسا کرتے ہیں بعد اس کے کہ حق ان پر روشن ہو چکا ہے فَاعْفُوا وَ اصْفَحُوا تم انہیں معاف کر دو اور ان سے در گزر کر و حَتى يَأْتِيَ اللهُ بِاَمرِہ یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے کر آئے اِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔آیت کے اس حصے میں مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ اگر چہ اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ تم ایک دفعہ پھر کافر بن جاؤ اور یہ کسی حکمت اور نیک خواہش کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اس حسد اور جلن کی وجہ سے ہے جو ان کے دلوں میں ہے پھر کسی ناواقفیت کی وجہ سے بھی نہیں، اسلام کی صداقت اور حقانیت خوب ان پر روشن ہو چکی ہے مگر تم ان کو معاف کرو اور ان سے در گزر کرو، خدا تعالیٰ خود اس بارہ میں حکم نازل فرمائے گا لیکن ملا کہتا ہے کہ کافر کو پکڑو اور ان کو تلوار کے زور سے مسلمان بنالو ( اور یہ بھی ملا صرف کہتا ہے کسی یہودی اور عیسائی پر تلوار اٹھانے کی جرات نہیں کرتا صرف نہتے شریف احمدی مرد، عورتوں، بچوں پر حملہ کرتا ہے) اللہ نے جو حکم دیاوہ تو یہ تھا کہ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ ولا تعتدوا (البقرۃ:191) کہ جو تم پر حملہ آور ہیں ان سے لڑائی کرو اور Aggression نہ کرو۔نیز فرمایا اذنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ( الحج:40) کہ لڑائی کی اجازت ان مسلمانوں کو دی گئی ہے جن پر حملہ کیا جاتا ہے کیونکہ ایسے مسلمان مظلوم ہیں۔غرض یہ آیت مغرب کے مخالفین اسلام کے خلاف ایک زبر دست دلیل ہے کہ ان کا اسلام پر جارحانہ حملہ کرنے کی تعلیم دینے کا الزام بالکل غلط ہے بلکہ اسلام ان سے عفو اور در گزر کے سلوک کا حکم دیتا ہے۔