365 دن (حصہ اول) — Page 89
درس القرآن 89 رس القرآن نمبر 72 ام تُرِيدُونَ أَن تَسْتَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُبِلَ مُوسى مِنْ قَبْلُ وَ مَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ( البقرة: 109) بنی اسرائیل کی سرکشیوں کا ایک پہلو جس کا اس آیت میں ذکر ہے یہ ہے کہ وہ مسلمانوں میں ہمارے نبی صلی الی یکیم کے ادب و احترام کو کم کرنے کے لئے جو کوشش کرتے تھے اس کا ایک طریق یہ تھا کہ مسلمانوں کو یہ عادت پڑے کہ وہ حضور صلی الله ولم سے نامناسب سوالات کریں۔جہاں صاحب علم سے سوال کرنا علم بڑھانے کا ذریعہ ہے وہاں صاحب علم سے بے کار سوال کرنا نہ صرف ضیاع وقت ہے بلکہ بے ادبی پر منتج ہو سکتا ہے نیز علم حاصل کرنے والوں کی ذہنی استعدادوں کو کمزور کرنے کا باعث بھی ہو سکتا ہے اس لئے فرمایا کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوال کرنا چاہتے ہو جس طرح اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کئے گئے تھے (اور بھول جاتے ہو ) جو شخص کفر کو ایمان سے بدل لے تو سمجھو کہ وہ سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔حضرت مصلح موعودؓ تحریر فرماتے ہیں:۔الله ” نادان عیسائی مصنف اعتراض کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ا لم نعوذ باللہ اپنی کم علمی چھپانے کے لئے صحابہ کو سوال کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔لیکن قرآن کریم کی یہ آیت بتاتی ہے کہ صحابہ کو سوال کرنے سے نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کے زمانہ کے لوگوں جیسے سوال کرنے سے روکا گیا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ کوئی سوال زیادتی علم کے لئے ہوتا ہے اور کوئی کج بھی کے لئے۔کوئی بے ادبی کے لئے ہوتا ہے اور کوئی تحقیر و تذلیل کے لئے ، غرض ہر سوال الگ رنگ رکھتا ہے۔معقول انسان کبھی بھی کسی غیر معقول سوال کی دوسرے کو اجازت نہیں دے سکتا۔اگر کوئی لڑکا کالج میں پروفیسر کے سامنے کھڑے ہو کر سوال پر سوال کرتا چلا جائے تو وہ لازماً اُسے ڈانٹے گا اور کہے گا کہ تم فضول وقت ضائع کر رہے ہو۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ پروفیسر اپنی کم علمی کی وجہ سے اسے سوال کرنے سے روک رہا ہے۔اسی طرح قرآن کریم نے لغو اور بے ہودہ سوالات کو نا پسند کیا ہے نہ کہ محض سوالات کو چنانچہ سُہل ھوٹلی میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ سے لوگ جس قسم کے سوالات کیا کرتے تھے۔