365 دن (حصہ اول) — Page 72
درس القرآن 72 رس القرآن نمبر 59 وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ ثُمَّ اَنْتُمْ هَؤُلاء تَقْتُلُونَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أَسْرَى تُفْدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّم عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَرِّ الْعَذَابِ وَ مَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ أُولَبِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَوةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ وور وور يُنصَرُونَ (البقرة: 85 تا 87) بنی اسرائیل سے نبوت کا عظیم الشان سلسلہ بنی اسماعیل میں منتقل کرنا تاریخ انسان کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا اور مذہبی دنیا میں اس کی بہت اہمیت تھی اور آج تک جو دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے واقعات نظر آتے ہیں ان کے پیچھے اس تبدیلی کے نشانات ہیں۔اس لئے قرآن مجید نے شروع میں ہی اس مضمون کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر یہ تبدیلی کی گئی۔آج کی تین آیات میں بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ایک اور پہلو بیان کیا گیا ہے جو اس تبدیلی کا باعث ہوا اور وہ خود بنی اسرائیل کے باہمی تعلقات سے تعلق رکھتا ہے اور فرماتا ہے کہ باوجود اس کے ان سے پختہ اقرار لیا گیا تھا کہ تم باہمی تعلقات استوار رکھو گے۔تم نے ایک دوسرے پر مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا، فرماتا ہے۔اس بات کو یاد کرو کہ ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور اپنے ہی لوگوں کو اپنی آبادیوں سے نہیں نکالو گے تم نے یہ اقرار کیا اور تم اس کے گواہ تھے۔اس کے باوجود تم وہ ہو کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے ہو تم اپنے میں سے ایک فریق کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔تم گناہ اور ظلم کے ذریعہ ان کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہو اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو فدیہ لے کر ان کو چھڑاتے ہو جبکہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا پس کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لاتے اور بعض کا انکار کرتے ہو پس تم میں