365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 66 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 66

درس القرآن رس القرآن نمبر 53 66 افَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْعُونَ كَلَّمَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (البقرة : 76) جیسا کہ گزشتہ درس کے مضمون میں بیان ہوا تھا حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر چڑھانے اور ان کو اپنے زعم میں قتل کر دینے کے بعد یہودی قوم پر سخت دلی کا ایک نیا دور شروع ہوا اور حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر چڑھانے کے بعد اس قوم سے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت کا انعام چھین لیا اور ان کو قرآن مجید کے ذریعہ کہدیا گیا کہ اب تمہاری روحانی ترقی بنی اسماعیل میں آنے والے عالمگیر نبی ورسول صلی علی کم پر ایمان لانے کے ساتھ وابستہ ہے یہاں اب ایک نیا دور بنی اسرائیل کا شروع ہوا اور قرآن شریف میں اس بیان کے لئے اس آیت سے سابقہ مضمون نئے رنگ میں شروع ہو رہا ہے۔اب تک واضح طور پر بنی اسرائیل کی امت محمدیہ سے کش مکش کا مضمون بیان نہیں ہوا تھا اس آیت سے یہ مضمون شروع ہے اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے اللہ فرماتا ہے اَفَتَطْمَعُونَ اَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ کہ کیا تم امید لگائے بیٹھے ہو کہ وہ لوگ تمہاری بات مان جائیں گے۔وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلمَ اللهِ جبکہ ان میں سے ایک فریق کلام الہی کو سنتا ہے۔ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ پھر اس کو اچھی طرح سمجھنے کے باوجود اس میں تحریف کرتا ہے وَهُمْ يَعْلَمُوں اور وہ جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں۔اس آیت میں کلام الہی سے مراد قرآن ہے یعنی جب قرآن ان کو سنایا جاتا ہے اور لکھایا جاتا ہے تو وہ بدل دیتے ہیں۔بالعموم پرانے مفسرین نے کلام اللہ سے مراد اس آیت میں وہ کلام لیا ہے جو اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل پر سابقہ زمانوں میں اترا کرتا تھا۔بے شک یہ معنے بھی کئے جائیں تو قرآن کے مخالف یہود نے جی بھر کر یہ تحریف بھی کی ہے اور خود اپنی کتابوں کو بدلا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے فرماتا ہے کہ تم ایسے لوگوں سے ایمان لانے کی امید لگاتے ہو جو تمہارے کلام میں بھی تحریف کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے کلام میں تو کثرت سے یہ شرارت کر چکے ہیں۔