365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 42 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 42

درس القرآن 42 رس القرآن نمبر 35 قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَأَمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا أُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة :39،40) حضرت آدم اور ان کے ساتھیوں کی اجتہادی غلطی اور اس کی معافی اور تلافی کے سامان کے بعد اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اس قسم کے حالات کا علاج ہجرت میں ہے اس لئے قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ہم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس علاقہ سے اتر کر چلے جاؤ۔یہ حکم اس لئے دیا کہ آدم کے ذریعے ایک نیا روحانی دور شروع ہو رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا ایک نیا سلسلہ جاری کیا جارہا تھا تو فرمایا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِنی هدی کہ جب بھی میری طرف سے تمہاری طرف ہدایت آئے فَمَنْ تَبِعَ هُدَای تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ تو ان کو اللہ کی طرف سے کسی سزا یا ناراضگی کا خوف نہیں ہو گا وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اور وہ اس ہدایت کو مان کر خوشی محسوس کریں گے نہ کہ وہ ہدایت ان کے لئے غم کا باعث ہو گی۔غم تو ہو گا ان کو جو اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو قبول نہیں کریں گے۔وَالَّذِینَ گفروا وہ لوگ جو اس ہدایت کا انکار کریں گے وَكَذَبُوا پایتنا اور نہ صرف ہماری ہدایت کا انکار کریں گے بلکہ وہ اس کلام کی آیات کو جو اسی ہدایت کو لے کر آئے گا جھوٹ قرار دیں گے أوليكَ اَصْحَبُ النَّارِ یہ لوگ آگ والے ہیں هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ اور وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہوں گے۔یہاں اس سوال کا جواب پورا ہو گیا کہ رسول اللہ صلی علیم کی طرف سے جو تعلیم پیش کی جارہی ہے وہ اگر صحیح ہے تو پھر پہلے لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کو یہ تعلیم نہیں ملی، اس رکوع میں یہ مضمون بیان فرمایا کہ آپ کی تعلیم تو ایک سلسلہ ہے اس تعلیم کا جو آدم کے ذریعہ شروع ہوئی اور جو تعلیم آدم اللہ کی طرف سے لائے اس کو ماننے والے کامیاب اور انکار کرنے والے ناکام اور قابل سزا ہیں اور ماننے والے اگر غلطی بھی کرتے ہیں تو اللہ ان کی غلطی کی معافی اور تلافی کا سامان کر دیتا ہے اور مومنوں کی جماعت ہجرت کے ذریعے ترقیات کے سامان دیکھتی ہے اور اصل مقصد آدم کا ایک ہدایت کا سلسلہ کا شروع کرنا ہے اور اس ہدایت کو ماننے والے کامیاب اور نہ ماننے والے ناکام ہوں گے اور سزا پائیں گے۔