365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 23 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 23

درس القرآن 23 رس القرآن نمبر 19 اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ان لوگوں کا ذکر فرماتے ہوئے جو زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دل سے اسلام کو نہیں مانتے، فرماتا ہے: مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِي ظُلمتِ لا يبصرون (البقرة:18) ان کی حالت اس شخص کی حالت کی طرح ہے جس نے ایک آگ بھڑ کا نا چاہی جب اس آگ نے اس کے ارد گرد کو روشن کر دیا تو اللہ ان کے نور کو لے گیا اور ان کو ایسے اندھیروں میں چھوڑ گیا کہ وہ دیکھتے نہیں۔قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ نے جو بڑے سے بڑے عالم کے لئے بھی اتارا ہے اور کم سے کم علم رکھنے والے عام آدمیوں کے لئے بھی اس لئے اس میں علمی اور روحانی باتوں کو بھی نظر آنے والی چیزوں سے مشابہہ چیزوں کے ذریعہ بھی سمجھایا ہے اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے حضور صلی علیکم پر، قرآن پر ، اسلام پر ایمان لاتے ہیں گویا ایک آگ جلانے کی کوشش کرتے ہیں جب اس آگ سے خوب روشنی ہو جاتی ہے اور ارد گر د روشنی پھیل جاتی ہے تو چونکہ ان کے دل، ان کی زبان کا ساتھ نہیں دے رہے ہوتے ، زبان سے اقرار کرتے ہیں مگر دل انکار کرتا ہے اس لئے ایسے لوگوں کی روشنی کو اللہ لے جاتا ہے اور ان کو طرح طرح کے اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے، وہ دیکھتے نہیں۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر اللہ ان کا نور لے جاتا ہے تو اس میں ان کا کیا قصور ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اگلی آیت میں اس کا جواب دیتا ہے کہ بكم على فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقرة: 19) کہ یہ لوگ بہرے ہیں اپنی زبان سے کام لیتے ہوئے سوال پوچھ کر اسلام کی تعلیم کے بارہ میں شبہات کو دور نہیں کرتے بکھر گونگے ہیں کہ خدا اور رسول کی باتیں توجہ سے نہیں سنتے اور عمی اندھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نشانات صبح شام نازل ہو رہے ہیں اللہ کی تائیدات جو سچے دین کو مل رہی ہیں وہ نہیں دیکھتے اور اپنی آنکھوں سے کام نہیں لیتے۔حالانکہ سچائی معلوم کرنے کے یہی تین بڑے طریق ہیں۔زبان سے بولنا، کانوں سے سننا اور آنکھوں سے دیکھنا فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ اس لئے جب تک ان کا یہ حال ہے وہ اس سچائی کی طرف سے جس کو انہوں نے قبول کیا تھا، واپس نہیں آئیں گے۔صم