365 دن (حصہ اول) — Page 191
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 30 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔191 ”اے امیر و اور بادشاہو! اور دولتمند و !! آپ لوگوں میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو خد ا سے ڈرتے اور اس کی تمام راہوں میں راستباز ہیں۔اکثر ایسے ہیں کہ دنیا کے ملک اور دنیا کے املاک سے دل لگاتے ہیں اور پھر اسی میں عمر بسر کر لیتے ہیں اور موت کو یاد نہیں رکھتے۔ہر ایک امیر جو نماز نہیں پڑھتا اور خدا سے لا پروا ہے اُس کے تمام نوکروں چاکروں کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔ہر ایک امیر جو شراب پیتا ہے اُس کی گردن پر ان لوگوں کا بھی گناہ ہے جو اس کے ماتحت ہو کر شراب میں شریک ہیں۔اے عقلمندو! یہ دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں تم سنبھل جاؤ۔تم ہر ایک بے اعتدالی کو چھوڑ دو۔ہر ایک نشہ کی چیز کو ترک کر و انسان کو تباہ کرنے والی صرف ، شراب ہی نہیں بلکہ افیون، گانجا، چرس، بھنگ، تاڑی اور ہر ایک نشہ جو ہمیشہ کے لئے عادت کر لیا جاتا ہے وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے سو تم اس سے بچو۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں ان چیزوں کو استعمال کرتے ہو جن کی شامت سے ہر ایک سال ہنر ارہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اس دنیا سے کوچ کرتے جاتے ہیں اور آخرت کا عذاب الگ ہے۔پرہیز گار انسان بن جاؤ تا تمہاری عمریں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے۔حد سے زیادہ بد خلق اور بے مہر ہو نا لعنتی زندگی ہے۔حد سے زیادہ خدا یا اس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پروا ہو نا لعنتی زندگی ہے۔ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔پس کیا بد قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے حرام کو ایسی بیا کی سے استعمال کرتا ہے کہ گویاوہ حرام اس کے لئے حلال ہے غصہ کی حالت میں دیوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور شہوات کے جوش میں بے حیائی کے طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے سو وہ سچی خوشحالی کو نہیں پائے گا یہاں تک کہ مرے گا۔اے عزیز و تم تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکی سو۔