365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 134 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 134

درس حدیث 134 درس حدیث نمبر 27 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةٌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ اللَّهُ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِيْنَّا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُوْبَكُرٍ أنا فَقَالَ رَسُولُ الله الا الله مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِي إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ مسلم کتاب الزکوۃ باب فضل من ضم الى الصدقة غيرها من اعمال البر 2374) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا ” آج تم سے کون روزہ دار ہے “ حضرت ابو بکر نے کہا میں روزہ دار ہوں پھر آپ صلی الکریم نے فرمایا ” آج تم سے کون جنازہ کے ساتھ گیا ہے“ حضرت ابو بکر نے عرض کیا آج میں جنازہ کے ساتھ گیا ہوں۔پھر آپ صلی اللہ کریم نے دریافت فرمایا ” آج تم میں سے کس نے کسی محتاج کو کھانا کھلایا ہے“ حضرت ابو بکڑ نے کہا میں نے کھلایا ہے۔آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا ”تم میں سے آج کس نے مریض کی عیادت کی ہے“ تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا میں نے عیادت کی ہے۔اس پر رسول اللہ صلی علیکم الله سة نے فرمایا: ”یہ باتیں کس شخص میں اکٹھی نہیں ہوتیں مگر وہ جنت میں داخل ہوتا ہے“ اس حدیث میں جہاں ہمارے نبی صلی اللہ یکم نے بڑے اثر کرنے والے رنگ میں نیکیوں کی طرف توجہ دلائی ہے اور اپنے صحابہ کو ان نیکیوں کی تحریک فرمائی ہے وہاں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ آپ صلی علیہ ہم اپنے زیر تربیت صحابہ کی تربیت کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیتے رہتے تھے اور سوال پوچھ کر ان کی حالت معلوم کرتے تھے۔اس حدیث میں روزہ رکھنے کا ذکر ہے جو انسان کی اپنی تربیت اور پاکیزگی کے لئے ضروری ہے مگر اس کا اثر دوسرے لوگوں پر بھی پڑتا ہے مگر حضور صلی الیم کے باقی تینوں سوال کا تعلق بندوں کے حقوق سے اور ان کی ہمدردی سے ہے۔جنازہ کے ساتھ جانا، محتاج کو کھانا کھلانا، بیمار کی عیادت کرنا یہ سب کام انسان کی ہمدردی اور غمخواری سے ہے اور حضور صلی الی یکم نے توجہ دلائی ہے کہ روزہ رکھ کے جہاں انسان اپنی ذاتی نیکی کی طرف توجہ کرتا ہے وہاں اپنے بھائیوں کی ہمدردی اور ان کی تکلیف کے وقت ان کی ہمدردی کرنا، بھوکوں کو الله سة کھانا کھلانا، جنازہ کے ساتھ جانا اور مریضوں کی خدمت کرنا بہت بڑے ثواب کا باعث ہیں۔