365 دن (حصہ اول) — Page 133
درس حدیث رس حدیث نمبر 26 133 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں جَاءَ ثنِي مِسْكِينة کہ میرے پاس ایک غریب عورت آئی تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَھا جو اپنی دو بیٹیاں اٹھائے ہوئے تھی فَاطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ میں نے اس کو کھانے کے لئے 3 کھجوریں دیں فاعْطَتْ كُلّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُمَا تَمَرَةٌ اس نے ان دونوں کو ایک ایک کھجور دی وَرَفَعَتْ إِلى فِيهَا تَمَرَةٌ لِتَأْكُلَهَا اور ایک کھجور اپنے منہ کی طرف اٹھائی کہ اس کو کھائے فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا مگر اس کی دونوں بیٹیوں نے اس کھجور کو بھی اپنے کھانے کے لئے مانگ لیا فَشَقَّتِ الثَّمَرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيْدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَاتو اس عورت نے وہ کھجور جو وہ خود کھانا چاہتی تھی، ٹکڑے کر کے ان دونوں کو دے دی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں فَأَعْجَبَنِي شَأْنَهَا مُجھے اس کی یہ بات اچھی لگی فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللہ میلہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے اس کا ذکر کیا جو اس عورت نے کیا تھا فقال تو آپ صلی للی ایم نے فرمایا۔اِنَّ اللهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ کہ اللہ نے اس عورت کے لئے اس بات کی وجہ سے جنت واجب کر دی ہے أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ اور اس کی وجہ سے اس کو آگ سے آزاد کر دیا ہے۔(مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب فضل الاحسان الى البنات 6694) اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے جو لڑکیوں کی پیدائش کو برا مناتے اور ان کے پالنے کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ہمارے نبی صلی اہل علم کو اللہ تعالیٰ نے بیٹے بھی عطا فرمائے اور بیٹیاں بھی عطا فرمائیں۔آپ صلی الی یکم کے بیٹے چھوٹی عمر میں فوت ہوتے رہے۔بے شک آپ صلی یہ کالم ان پر شفقت فرماتے اور ان سے محبت کرتے مگر اپنی بیٹیوں سے آپ صلی علیکم کا سلوک حد درجہ مشفقانہ تھا۔آپؐ ان سے محبت کرتے اور ان کے جذبات کا خاص خیال رکھتے اور اس بارہ میں بہت سی مستند روایات میں اس کا ذکر ہے۔