365 دن (حصہ اول) — Page 132
درس حدیث 132 رس حدیث نمبر 25 حضرت عائشہ سے کسی نے پوچھا کہ ہمارے نبی صلی الی یوم کے اخلاق کیسے تھے تو حضرت عائشہ نے جواب دیا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ (مسند احمد بن حنبل حدیث السيدة عائشہ جلد 8 صفحہ 144 عالم الكتب بيروت 1998ء حدیث 25108) آپ صلی الی یوم کے اخلاق سراسر قرآن تھے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں راستہ دکھانے کے لئے قرآن شریف اتارا اور اس میں ہماری زندگی کی سب باتوں کے لئے حکم دیئے ہیں جن پر چل کر ایک انسان اللہ کو راضی کر سکتا ہے، اچھا مسلمان بن سکتا ہے، اچھا انسان بن سکتا ہے، دنیا کے لئے اچھا اور فائدہ مند ہو سکتا ہے، مرنے کے بعد اللہ کے حضور بڑا درجہ پاسکتا ہے۔مگر انسان، تعلیم کے ساتھ نمونہ کا بھی محتاج ہے۔قرآن نے حکم دیا کہ نماز پڑھو، مگر نماز کس طرح پڑھنی ہے؟ قرآن نے حکم دیا کہ اپنے بیوی بچوں، رشتہ داروں، ہمسایوں سے نیک سلوک کرو، اس کا کیا طریق ہے؟ قرآن مجید نے حکم دیا کہ زکوۃ دو، روزہ رکھو، حج کرو، لیکن ان حکموں پر کس طرح عمل کرنا ہے؟ قرآن مجید نے حکم دیا کہ دشمن اگر حملہ کرے تو کس طرح جواب دینا ہے؟ اگر قرآن کہتا ہے کہ نکاح و شادی کرو تو اس کا کیا مناسب طریق ہے؟ ایسے کئی سو حکم قرآن شریف میں ہیں۔پھر کئی طرح کے آداب و اخلاق قرآن شریف نے سکھائے ہیں ان کو کام کی شکل میں کس طرح کیا جائے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی یی کم کو بھیجا۔آپ صلی الیکم نے قرآن کے ہر حکم پر بہترین رنگ میں عمل کیا اور قرآن کی خوبصورت تعلیم کو خوبصورت شکل میں کر کے دکھایا۔اس لئے قرآن شریف فرماتا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( الاحزاب : 22) کہ تمہارے لئے اللہ کے رسول (صلی علیم میں بہت خوبصورت نمونہ ہے۔