365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 117 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 117

درس حدیث ސލ نمبر 12 117 ہمارے نبی صلی ال کی اپنی امت کے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اغسلوا ثِيَابَكُمْ وَخُذُوا مِنْ شَعْرِكُمْ وَاسْتَاكُوْا وَتَزَيَّنُوا وَتُنَظِفُوْا ( تاریخ دمشق الکبير لابن عساکر باب ذكر من اسمه عبدالرحیم جلد 19 جزء 38 صفحہ 84 دار الاحیاء التراث العربی بیروت 2001ء) الله سة اس حدیث میں ہمارے نبی صلی علی کرم نے مسلمانوں کو لباس اور بدن کی صفائی کی بہت زور سے تاکید فرمائی ہے۔اسلام سے پہلے بعض مذاہب کے لوگوں میں یہ خیال پید اہو گیا کہ گندے رہنا، صاف ستھرے کپڑے نہ پہنا، ناخن بڑھانا اور سر کے بالوں میں جوئیں پالنا کوئی بہت بڑی نیکی کا کام ہے۔اسلام نے ان خیالات کی بڑے زور سے تردید کی۔قرآن شریف نے روحانی صفائی اور ظاہری صفائی کا اکٹھا ذکر کیا ہے اور فرماتا ہے اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ( البقرة:223) کہ اللہ ان سے بھی پیار کرتا ہے جو تو بہ کرتے ہیں اور ان سے بھی پیار کرتا ہے جو صفائی اختیار کرتے ہیں۔یہ حدیث جو آج ہم نے پڑھی ہے اس میں حضور صلی ا لم فرماتے ہیں اِغْسِلُوا ثِيَابَكُمْ اپنے کپڑے دھو لیا کرو، وَخُذُوا شَعْرَكُمْ اور حجامت بنواؤ داستا گوا اور مسواک کیا کرو وتزينوا اور زینت کا خیال رکھو دَ تُنظفوا اور صاف ستھرے رہا کرو۔دانتوں کی صفائی کے متعلق ہمارے نبی صلی ا یکم نے فرمایا کہ اگر میں اپنی امت پر زیادہ بوجھ نہ ڈال دیتا تو حکم دیتا کہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کیا کرو۔ایک دفعہ حضور صلی لی نام نے صفائی کا حکم دیتے ہوئے اپنے صحابہ کو ارشاد فرمایا کہ تم اپنے گھروں کے صحن بھی صاف کیا کرو اور صفائی کی اتنی تاکید فرمائی کہ یہ بھی کہا کہ یہودی مرد چونکہ صفائی کا خیال نہیں رکھتے تھے اس لئے ان کی عورتوں میں (نعوذ باللہ ) کنچنی بننے کا گناہ پید اہو گیا۔الله سة