365 دن (حصہ اول) — Page 109
درس حدیث 109 درس حدیث نمبر 6 حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے نبی صلی ﷺ سے عرض کیا: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَ يَدِهِ ( بخاری کتاب الایمان باب أى الاسلام أفضل؟ (11) یا رسول اللہ صلی ل کی سب سے افضل اسلام کیا ہے آپ مصلی یم نے فرمایا سب سے افضل اسلام اس شخص کا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔اس حدیث میں ایک بہت ضروری اور اہم سبق دیا گیا ہے جس کو لوگ بھولے بیٹھے ہیں ہمارے دین کے دو ہی حصے ہیں ایک یہ کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کا جو حق ہمارے پر ہے وہ ادا کیا جائے اور دوسرے اللہ کی مخلوق سے ہمدردی اور خدمت کا سلوک کیا جائے۔دین کی ساری باتیں ان ہی دو باتوں کے گرد گھومتی ہیں۔اور اللہ کے دین کا اصل اور ضروری مقصد بھی یہی ہے باقی سب تفاصیل ہیں۔اصل کام، بنیادی کام ضروری کام یہ ہے کہ انسان خدا کی عبادت کرے اور اس کے بندوں کی ہمدردی اور خدمت کی کوشش کرے، ان کو اپنی زبان سے یا اپنے ہاتھ سے کسی طرح کی تکلیف نہ دے۔بعض لوگ لمبی چوڑی نمازیں پڑھتے ہیں، وظیفے ، ریاضتیں کرتے ہیں۔مگر اپنے بھائی، بہنوں کو تکلیف دیتے ہیں۔ہمارے نبی صلی علیم کے سامنے دو عورتوں کا ذکر کیا گیا ایک تو وہ جو نمازوں میں، روزے رکھنے میں بہت آگے تھی۔مگر اپنے ہمسایوں کو تکلیف دیتی ہے دوسری عورت وہ جو نماز، روزہ تو فرض کے طور پر ادا کرتی ہے مگر ہمسایوں اور غریبوں کی خدمت کرتی ہے ، پنیر بناکر ، ٹکڑے کاٹ کر لو گوں کو دیتی ہے۔آپ نے پہلی کے متعلق فرمایا: ” وہ آگ میں ہے اور دوسری کی متعلق فرمایا وہ جنت میں ہے۔“ (مسند احمد بن حنبل مسند ابی ہریرۃ جلد 3 صفحہ 556 حدیث 9673 عالم الكتب بيروت :1998ء) اگر چہ ہمارے نبی صلی علیم نے تمام انسانوں پر رحم اور شفقت کرنے کا حکم دیا ہے مگر