365 دن (حصہ اول) — Page 98
درس القرآن 98 درس القرآن نمبر 78 وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسْجِدَ اللهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَبِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَابِفِينَ لَهُمُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌّ وَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرة:115،116) ان آیات سے بنی اسرائیل کی دونوں شاخوں یہود اور نصاریٰ کی سرکشیوں اور نافرمانیوں اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے ایک اور پہلو کا بیان شروع ہو تا ہے اور یہ مضمون قبلہ کی تبدیلی اور باقی قبلوں کو چھوڑ کر بیت اللہ کی طرف رُخ کرنے کے مضمون تک پہنچتا ہے اور اس حصہ میں یہود کے علاوہ نصاریٰ کی سرگرمیوں کا اسلام کے خلاف خصوصی ذکر بھی ہے ، فرماتا ہے۔اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مساجد سے روکے کہ اس میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کر کے۔مراد یہ ہے کہ اسلام کی تمام تعلیم کسی دنیوی مقصد کے لئے نہیں، کوئی دولت کمانے کے لئے نہیں، کوئی حکومت بنانے کے لئے نہیں، اسلام کی تعلیم کا ہر حکم خدا کے ذکر کے گرد گھومتا ہے اب اگر یہودو نصاری اسلام کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں تو گویا وہ اس مقصد کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اسلام کا اصل مقصد ہے کہ اللہ کی توحید دنیا میں قائم ہو اور اس کا ذکر ہر شخص کے دل و دماغ اور زبان پر ہو۔ان لوگوں کا فرض تو یہ تھا کہ ایسی سازشیں کرنے کے بجائے جس سے معبدوں کے قیام میں روک ہو ان کو خود ان مساجد میں جو اسلامی تعلیم کے نتیجہ میں قائم کی جارہی ہیں خدا کی خشیت رکھتے ہوئے داخل ہوتے۔مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کی یہ کوششیں ناکام ہوں گی۔دنیا میں مساجد کروڑوں کی تعداد میں قائم ہوں گی اور ان کو اپنی کوششوں میں ناکامی ہو گی اور ان کے لئے آخرت میں بھی بہت بڑی سزا ہے۔دوسری آیت میں یہ اشارہ ہے یہودو نصاری ڈرتے ہیں کہ اسلام کے غلبہ سے ان کا قبلہ متروک ہو جائے گا اور لوگ ان کے قبلہ کی طرف رخ نہیں کریں گے اس بارہ میں فرمایا