365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 96 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 96

درس القرآن 96 رس القرآن نمبر 77 وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصْرِى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصْرَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَتبَ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (البقرة:114) مسلمانوں کے مقابل پر یہود و نصاریٰ کے اس دعویٰ کا کہ جنت میں کوئی نہیں جائے گا جب تک کہ وہ یہودی یا عیسائی نہ ہو۔پچھلی آیت میں نہایت ٹھوس اور لطیف جواب دے کر اس آیت میں الزامی رنگ میں بھی جواب دیا ہے کہ تم کہتے ہو کہ مسلمان چونکہ یہودی نہیں یا عیسائی نہیں اس لئے جنت میں نہیں جاسکتے مگر ان دونوں قوموں کا اپنا حال یہ ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی کسی سچی بات پر قائم نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی کسی سچی بات پر قائم نہیں وَهُمْ يَتْلُونَ الكتب حالا نکہ وہ ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں۔اس کے بعد ان کا مسلمانوں پر الزام لگانا کیا معنے رکھتا ہے كَذلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قُولِهم اس قسم کی بات تو ان کے قول کے مشابہہ ہے جو علم نہیں رکھتے جہالت اور نادانی سے بات کرتے فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ تو جس بات میں یہ اختلاف کرتے ہیں اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا اور اس آیت کے مضمون کا تعلق صرف گزشتہ دو آیتوں سے ہی نہیں ہے بلکہ اس سارے مضمون سے ہے جس میں بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں اور اسلام کے انکار اور رسول کریم صلی علیم کے انکار کے بیان سے تعلق ہے کہ خود بنی اسرائیل میں دو شاخیں ہو چکی ہیں جو ایک دوسرے سے ہستی باری تعالیٰ کے بارہ میں، توحید کے بارہ میں، نجات کے بارہ میں، شریعت کے واجب العمل ہونے یا نہ ہونے کے بارہ میں، مسیح علیہ السلام کے سچے ہونے یا نہ ہونے کے بارہ میں شدید اختلاف رکھتے ہیں۔پھر بنی اسرائیل کا یہ کہنا کہ نبوت کا سلسلہ ان سے کیوں چھین لیا گیا اور بنی اسماعیل کی طرف کیوں منتقل کیا گیا کیا حیثیت رکھتا ہے۔ان کے اس باہمی اختلاف کا فیصلہ ان کی باہمی کوششوں سے ناممکن ہے اس کے لئے اگر ضرورت تھی تو ایک ایسے نبی کامل کی جو ان دونوں فریقوں سے تعلق نہ رکھتا ہو۔حضرت مصلح