365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 6 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 6

درس القرآن 6 رس القرآن نمبر 4 گزشتہ درس میں یہ ذکر ہوا تھا کہ قرآن شریف کا سب سے ضروری اور سب سے بنیادی کام اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا سبق ساری انسانیت کو دینا ہے اور لوگوں کو بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کتنا پیارا ہے اس کے تمام نام اچھے ہیں اس کی تمام صفات خوبصورت ہیں اور اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کی ایک سو چار صفات قرآن شریف میں بیان ہیں اور سورۃ فاتحہ میں جو تمام قرآن کا خلاصہ اور عطر ہے ان ایک سو چار صفات میں سے چار صفات بیان کی گئیں ہیں یعنی رَبّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحہ : 2 تا 4) جوان 104 صفات کے لئے گویا ماں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان چار صفات کے ذکر کے بعد سورۃ فاتحہ میں اس تعلق کا ذکر ہے جو انسان کو خدا سے ہونا چاہئے جو ان چار صفات کا ضروری تقاضا ہے یعنی یہ بیان ہے کہ جس ہستی میں یہ چار صفات پائی جاتی ہیں وہی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔چنانچہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:5) کہ اے وہ اللہ جو ان چار صفات کا مالک ہے ہمیں تیرا پیارا چہرہ ان چار صفات میں نظر آرہا ہے تو تمام تعریف کا مستحق ہے کیونکہ سب جہانوں کو تو نے پیدا کیا اور ان کی ترقی کے سامان بھی تو نے ہم تمام جان رکھنے والوں کو تو نے ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہمارے فائدہ کے لئے تمام سامان رکھ دیئے اور اگر ہم ان سامانوں سے فائدہ اٹھا کر نیک کام کریں تو تو بڑھ چڑھ کر اور بار بار ہمیں بدلہ دیتا ہے نہ صرف اس دنیا میں بلکہ اگلے جہان میں بھی اس لئے ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور عبادت جیسے مشکل اور اہم کام کے لئے تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔عبادت کیا ہے؟ قرآن شریف میں جگہ جگہ اس کی تفصیل بیان ہے سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے۔صِبْغَةَ اللهِ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةَ وَنَحْنُ لَهُ عَبدُونَ (البقرة:139) اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی عبادت کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا کا رنگ اپنے اوپر چڑھاتے ہیں یعنی جو خدا کی اچھی اچھی صفات ہیں وہ اپنے اندر پیدا کرتے ہیں۔خدا علیم ہے اس