365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 70 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 70

درس القرآن 70 رس القرآن نمبر 57 بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَ اَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ وَ (البقرة:82) گزشتہ آیت میں ذکر تھا کہ بنی اسرائیل اپنی شرارتوں اور سرکشیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا اور تنبیہہ سے ڈرانے پر یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ ہم خدا کی پسندیدہ اور چنیدہ قوم ہیں اوّل تو ہمیں کوئی عذاب نہیں ملے گا۔اگر ملے گا بھی تو صرف اتنا کہ دوچار دن ہمیں دوزخ کی آگ چھولے گی۔آج کی دو آیات میں اس جھوٹے تصور کا اصولی جواب دیا ہے۔سزا اور جزاء کا کسی قوم یا رنگ یا نسل یا زبان سے ہونے کا کیا تعلق ہے ؟ سزا اور جزاء کا تعلق تم بھی جانتے ہو صحیح ایمان اور اچھے اعمال سے ہے۔کوئی شخص سفید رنگ کا ہے مگر خدا کی عبادت نہیں کرتا اور انسانیت کو دکھ دیتا ہے وہ بھی اسی طرح پکڑا جائے گا جس طرح ایک گندمی رنگ کا آدمی اگر ایسا کرتا ہے۔کوئی کسی نسل سے ہو یا کسی ملک میں پید اہو ، سب ایک خدا کے بندے ہیں، ایک رب العالمین کی مخلوق ہیں، سزا جزاء کے لئے کوئی خاص قوم چنیدہ یا پسندیدہ نہیں، فرماتا ہے۔بلی کیوں نہیں، حقیقت یہ ہے کہ مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةٌ جس شخص نے بدی کمائی اور لوگوں کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث ہو او احاطت به خطی یا اس کی اپنی انفرادی غلطیوں اور گناہوں میں اتنا بڑھ گیا کہ انہوں نے اس کو ہر طرف سے گھیر لیا فَأُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ تو یہ لوگ آگ والے ہیں۔تم کہتے ہو کہ آگ ہمیں معمولی سا چھوٹے گی وہ بھی دو چار دن۔ہم کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو دوسروں کو دکھ پہنچانے کے مرتکب ہیں یا ان کی ذاتی برائیوں نے ان کو گھیر رکھا ہے وہ اس آگ میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے أُولبِكَ اَصْحَبُ الْجَنَّةِ یہ جنت والے ہیں هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ (البقرة: 83) وہ اس میں رہ پڑنے والے ہیں۔