365 دن (حصہ اول) — Page 29
درس القرآن 29 رس القرآن نمبر 24 وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ منْ دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صُدِقِينَ (البقرة:24) انسان کی طبیعت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ بالعموم وہ کسی کی بات کا فوری طور پر انکار نہیں کرتا لیکن اگر اس کو کسی بات کا حکم دیا جائے کہ ایسے کر دیا یہ حکم دیا جائے کہ ایسے نہ کرو تو پھر وہ ”کیوں“ کا لفظ بولتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اسے دلیل دی جائے کہ وہ ایسے کیوں کرے اور ایسے کیوں نہ کرے۔خصوصاً جب وہ بات اس کے عام طریق کے خلاف ہو۔اب اس آیت سے پہلی آیات میں قرآن شریف کا پہلا حکم دیا گیا تھا اور حکم بھی وہ جو قرآن مجید کی رو سے پہلا اور سب سے بنیادی اور سب سے ضروری حکم ہے اور پھر صرف ایک شخص کو یا ایک قوم کو یا صرف ایک علاقہ کے لوگوں کو نہیں بلکہ سب لوگوں کو سب ملکوں کے لوگوں کو سب زبانیں بولنے والوں کو ہر رنگ کے لوگوں کو دیا گیا ہے اور پھر اس حکم کو لوگوں کی مرضی پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ حکم یہ ہے کہ اللہ کی عبادت فرض ہے اس فرض کو بجالاؤ۔اس لئے یہ سوال اٹھنا ہی تھا کہ ہم کیوں عبادت کریں، تو اس آیت میں فرماتا ہے : وَإِن كُنتُم فِی ریب اگر تم اس کلام کے بارہ میں شک میں ہو مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا جو ہم نے اپنے عبد پر اتارا ہے یعنی اس بندہ پر اتارا ہے جو سب سے بڑھ کر عبادت کے حکم پر عمل کرنے والا ہے فَاتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ تو اس جیسی کتاب کی کوئی سورۃ لاؤ جو اس سورۃ کا درجہ رکھتی ہو جس میں ہم نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت کرو۔وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِنْ دُونِ اللہ اور تم اللہ کی عبادت کے حکم کی تعمیل کرنا نہیں چاہتے تمہیں اس میں شک ہے تو اپنے مددگاروں کو بلا لو ان كُنتُم صدِقِينَ اگر تم سچے ہو۔یعنی اگر تمہیں شک ہے کہ اس سے بہتر تمہارے پاس کوئی تعلیم ہے تو پیش کرو اور مقابلہ کر کے دیکھ لو۔رووو روووو