365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 22 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 22

درس القرآن 22 رس القرآن نمبر 18 اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جو زبان سے تو مسلمان ہونے کا اظہار کرتے ہیں مگر دل اسلام کے خلاف ہیں، فرماتا ہے: أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَلَةَ بِالْهُدَى که ان لوگوں کو دیکھو یہ کیسی نادانی سے کام لے رہے ہیں، ہر شخص تو یہ چاہتا ہے اور یہ موٹی عقل کی بات ہے کہ اس کو سیدھا رستہ ملے اور وہ صحیح راستہ سے بھٹک نہ جائے مگر یہ لوگ صحیح راستہ کو جو خدا کی کتاب اور رسول اللہ صلی ال نیم کی راہنمائی کے ذریعہ ان کو مل رہا ہے، چھوڑ کر اس کے بدلہ میں غلط راستہ ، گمراہی کا راستہ تکلیف اٹھا کر ، قیمت دے کر خریدتے ہیں فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُم مگر ان کی یہ تجارت سر اسر گھاٹے کا سودا ہے ان کو اس خرید و فروخت سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔کیونکہ انہوں نے اچھی چیز چھوڑی اور غلط راستہ اختیار کیا۔وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ( البقرة : 17) پھر تجارت کرنے والوں کو کوئی نفع نہ بھی ہوا ہو تو گھاٹے کی صورت میں بھی ان کو ٹھوس تجربے تو ہو جاتے ہیں جس سے وہ آئندہ خطروں اور گھاٹوں سے بچ جاتے ہیں مگر ان لوگوں کو کسی قسم کی ہلاکت نہ ملی نہ کوئی مفید تجربہ ان کو ہوا۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اللہ نے ہر انسان کی طبیعت میں سیدھے راستہ پر چلنے کا اختیار رکھا مگر اللہ تعالیٰ نے زبر دستی انسان کو غلط راستہ پر چلنے سے نہیں روکا اللہ نے یہ پسند نہیں کیا کہ غلط راستہ اختیار کرے مگر نا پسند کرنے کے باوجو د انسان پر جبر نہیں کیا اس کو اختیار دیا ہے کہ اگر چاہے تو ایمان لائے اگر چاہے تو کفر اختیار کرے۔تو جو آدمی ایمان کو چھوڑ کر کفر اختیار کرتا ہے تو یوں کہنا چاہیے کہ اس نے ایمان کو بیچ کر کفر خرید لیا ہے اور یہ کتنابر اسو دا ہے۔