365 دن (حصہ اول) — Page 186
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 26 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔186 ”اسلام کی بابت جب عیسائی لوگ کسی سے گفتگو کرتے ہیں تو اسلامی جنگوں پر کلام کرنے لگتے ہیں حالانکہ خود انکے گھر میں یشوع اور موسی کے جنگوں کی نظیریں موجود ہیں۔اور جب وہ اسلامی جنگوں سے کہیں بڑھ کر مورد اعتراض ٹھہر جاتے ہیں، کیونکہ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلامی جنگ بالکل دفاعی جنگ تھے۔اور ان میں وہ شدت اور سخت گیری ہر گز نہ تھی، جو موسیٰ اور یسوع کے جنگوں میں پائی جاتی ہے۔اگر وہ یہ کہیں کے موسیٰ اور یسوع کی لڑائیاں عذاب الہی کے رنگ میں تھیں۔تو ہم کہتے ہیں کہ اسلامی جنگوں کو کیوں عذاب الہی کی صورت میں تسلیم نہیں کرتے۔موسوی جنگوں کو کیا ترجیح ہے۔بلکہ ان اسلامی جنگوں میں تو موسوی لڑائیوں کے مقابلے میں تو بڑی بڑی رعایتیں دی گئی ہیں اصل بات تو یہی ہے کہ چونکہ وہ لوگ نوامیس الہیہ سے ناواقف تھے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر موسیٰ علیہ السلام کے مخالفوں کے مقابلہ میں بہت بڑا رحم فرمایا، کیونکہ وہ بڑا غفور رحیم ہے۔پھر اسلامی جنگوں میں موسوی جنگوں کے مقابلہ میں یہ بڑی خصوصیت ہے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خادموں کو مکہ والوں نے برابر تیرہ سال تک خطر ناک ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور طرح طرح کے دکھ اُن ظالموں نے دیئے۔چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور بعض بڑے بڑے عذابوں سے مارے گئے چنانچہ تاریخ پڑھنے والے پر یہ امر مخفی نہیں ہے کہ بیچاری عورتوں کو سخت شرمناک ایذاؤں کے ساتھ مار دیا۔یہاں تک کے ایک عورت کو دو اونٹوں سے باندھ دیا اور پھر ان کو مختلف جہات میں دوڑا دیا اور اس بیچاری عورت کو چیر ڈالا اس قسم کی ایذارسانیوں اور تکلیفوں کو برابر تیرہ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاک جماعت نے بڑے صبر اور حوصلہ کہ ساتھ برداشت کیا۔اس پر بھی انہوں نے اپنے ظلم کو نہ روکا اور آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ نیلم کے قتل کا منصوبہ کیا گیا۔اور جب آپ نے خدا تعالیٰ سے اُن کی شرارت کی اطلاع پاکر مکہ سے مدینہ کو ، ہجرت کی۔پھر بھی انہوں نے تعاقب کیا اور آخر جب یہ لوگ