365 دن (حصہ اول) — Page 118
درس حدیث 118 ސލ نمبر 13 ہمارے نبی صلی الی یوم نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ انسان اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے۔رشتہ داروں میں نیک سلوک کرنے کے سلسلہ میں سب سے پہلا نام ماں باپ کا آتا ہے۔قرآن شریف نے ماں باپ کی اطاعت اور ان سے نیک سلوک کی بہت تاکید کی ہے اور ہمارے نبی صلی علیم سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے پوچھا آئی الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى الله ؟ کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے پیارا کام کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا الصَّلُوةُ عَلَى وَقْتِهَا کہ نماز وقت پر ادا کرنا اللہ کو سب سے زیادہ پیارا عمل ہے۔حضرت ابن مسعودؓ نے پوچھا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا بر الوالِدَيْنِ کہ ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔(بخاری کتاب مواقیت الصلوۃ باب فضل الصلوة لوقتها 527) اس حدیث میں دو حقوق کا ذکر کیا ہے اسلام کی تعلیم ان دو حقوق کے گرد گھومتی ہے ایک اللہ کا حق اور دوسرے بندوں کا حق۔اللہ کے حق ادا کرنے کے لئے سب سے اہم ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی ہے ، ان کی اطاعت ہے، ان کی خدمت ہے ، ان سے نیک سلوک ہے، خصوص ماں کی خدمت اور اس کی فرمانبرداری کی ہمارے نبی صلی ا یم نے بہت تاکید فرمائی ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا الْجَنَّةُ تَحْتَ اَقْدَامِ الأُمَّهَاتِ کہ جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔(کنز العمال كتاب النكاح الباب الثامن في بر الوالدین الالم جزء 6 1 صفحہ 192 حدیث 45431) یعنی اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ جنت میں جائے تو اس کو چاہیئے کہ ماں کی خدمت اور اطاعت اور حسن سلوک کے ذریعہ اپنا راستہ جنت میں بنائے۔