دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 40 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 40

40 یا احمدیت کی تعریف کرنے کے الزام کو دھونے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو دوسری طرف مولانا قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس پر غلاف چڑھانے بلکہ طعن کرنے بلکہ ان کے موقف سے مکمل انحراف میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اور یہیں سے ظلم کی اس اندھی رات کا آغاز ہوتا ہے جس میں احمدی نعشوں کو قبروں سے اکھاڑ باہر پھینکنا، بچوں بوڑھوں نوجوانوں حتی کہ عورتوں پر ظلم کرنا، گھر بار کو لوٹ لینا، بیوت الذکر سے کلمہ طیبہ کو گندگی مل کر مٹا دینا، معصوم نمازیوں کو بموں سے اڑا دینا، کلمہ طیبہ سینے پر لگانے والوں کو جیل کی کال کوٹھڑیوں میں جھونک دینا ، جہاد بن جاتا ہے اور یہ ہے وہ خفیہ راز اور خفیہ مجبوری جس میں دیوبندی علماء تمسخر اڑاتے ، قبریں اکھیڑتے ، بیوت الذکر گراتے قرآن جلاتے اور یہ نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں کہ ہاں ”ہم احمدیوں سے وہیں سلوک کر رہے ہیں جو مکہ میں مشرکین مکہ معصوم مسلمانوں سے کیا کرتے تھے“۔مجھے اقتدار ملے تومیں سب احمدیوں کوذبح کردوں گا مشہور دیو بندی مصنف طاہر عبدالرزاق نے ختم نبوت کے محافظ کے نام سے مختلف علماء کے بیانات شائع کئے ہیں جس میں مولوی تاج محمود فیصل آبادی صدر تحفظ ختم نبوت مغربی پاکستان بڑی مسرت اور بڑے فخر سے اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔خون کی ندیاں بہا دوں گا۔اور سب احمدیوں کو ذبح کر دوں گا۔“ اگر مجھے اقتدار ملے اور میں پاکستان کا سربراہ بنوں تو میرا فیصلہ۔۔۔مولانا نے اپنا ہاتھ کھول کر بازو پھیلایا اور اسے تلوار کی طرح لہراتے ہوئے فرمایا کہ میں تو ان سب کا صفایا کر دوں گا یعنی خون کی ندیاں بہادوں گا۔بچوں بوڑھوں عورتوں سب کو ذبح اور املاک کو آگ لگادوں گا۔(اناللہ وانا الیہ راجعون ) ہفت روزہ لولاک فیصل آباد از پروفیسر محمد طاہر بحوالہ ختم نبوت کے محافظ از طاہر عبدالرزاق صفحہ 37) وہ جو کہتے ہیں کہ خود بدلتے نہیں اور قرآن بدل دیتے ہیں والی بات عملی طور پر نظر آنے لگے جاتی ہے۔1905ء کے بعد کے دیوبندی حضرات نے تحذیر الناس سے کیا انحراف کیا تمام اسلامی اقدار سے بھی کنارہ کش ہو گئے اور پھر صرف اور صرف ایک ہی اصول طے پا گیا کہ ہم نے دنیا کو دکھانا