دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 14 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 14

14 بے چاری عقل کی بے عقلی اور اہل اللہ کی مخالفت مولوی منظور نعمانی صاحب فرماتے ہیں: اس دنیا میں بعض واقعات اس قدر عجیب و غریب اور بعید از قیاس ہوتے ہیں کہ عقل ہزار سر مارے مگر ان کی کوئی معقول توجیہہ کرنے سے عاجز ہی رہتی ہے۔حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کی دینی دعوت کے ساتھ اُن کی قوموں نے عام طور پر جو سلوک کیا وہ بھی دنیا کے ایسے ہی عجیب و غریب اور بعید از قیاس واقعات میں سے ہے۔خود اس دنیا کے پیدا کرنے والے اور چلانے والے خالق و پروردگار نے کتنے عجیب انداز میں اس پر حسرت کا اظہار کیا ہے۔یا حسرة على العباد ما ياتيهم من رسول الاكانوبه يستهزئون - (يس : 2) مثال کے طور پر صرف خاتم النبین سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی یا پیام ہی کی سرگزشت کو اس نظر سے حدیث وسیر کی کتابوں میں دیکھ لیا جائے۔آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے وہیں پلے بڑھے۔بچپن ہی سے صورت میں دلکشی و محبوبیت اور عادات میں معصومیت تھی اس لئے ہر ایک محبت و احترام کرتا تھا گویا آپ پوری قوم کو پیارے اور اُس کی آنکھ کے تارے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنی قوم کو تو حید اور اسلام کی دعوت دے۔عقل کا فیصلہ اور قیاس کا تقاضا یہی تھا کہ پوری قوم جو پہلے سے آپ کی گرویدہ تھی اور آپ کو صادق و امین سمجھتی اور کہتی تھی وہ آپ کی اس دینی دعوت پر یک زبان ہو کر لبیک کہتی اور پروانہ وار آپ پر ٹوٹ پڑتی اور کم از کم مکہ میں تو ایک بھی مکذب اور مخالف نہ ہوتا لیکن ہوا یہ کہ گنتی کے چند سعادتمندوں کے سوا ساری قوم آپ کی تکذیب اور مخالفت پر متفق ہوگئی جو ہمیشہ سے صادق و امین کہتے رہے تھے وہی شاعر اور مجنون اور ساحر و کذاب کہنے لگ گئے۔اور آپ کے خلاف نفرت کی آگ بھڑ کا نا اُن کا محبوب مشغلہ بن گیا۔بے چاری عقل حیران ہے ایسا کیوں ہوا؟ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان دنوں مکہ میں دماغوں کو خراب کر کے آدمیوں کو پاگل بنا دینے والی کوئی خاص ہوا چلی تھی جس کے اثر سے ساری قوم کی قوم پاگل ہوگئی تھی اور آپ کے ساتھ یہ جو کچھ اس نے کیا وہ پاگل پن کی وجہ سے کیا۔