دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 60
60 60 (التنوير لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئلہ تکفیر ص25) سیری تفسیر کی روسے آپﷺ کے ماتحت انبیاء آپ کا ظل ہونگے جس سے ختم نبوت میں کوئی حرج نہیں۔۔۔بانی دیوبند مزید لکھا ہے کہ جیسے نور قمر نور آفتاب سے مستفید ہے ایسے ہی بعد لحاظ مضامین مسطورہ فرق مراتب انبیاء کو دیکھ کر یہ سمجھیں کہ کمالات انبیاء سابق اور انبیاء ما تحت کمالات محمدی سے مستفاد ہیں (تحذیر الناس ص 35) ناظرین کرام ! ذرا اس پر غور فرمائیے کہ انبیاء سابق تو وہ ہوئے جو حضور سے پہلے گزر چکے یہ انبیاء ماتحت کون سے ہوئے ؟؟ وہی جن کا آنا حضور علیہ السلام کے زمانے میں اور حضور کے بعد پیدا ہونا جائز مانا ہوا ہے۔“ (التنوير لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئله تکفیر ص25) ؟؟؟ ختم نبوت پر صرف احمدیوں کا قصور کیا مولوی عبدالحكيم اختر مولوی غلام علی اوکاڑوی صاحب نے دیو بندی سرخیل مولا نا قاسم نانوتوی پر طنز کیا کہ انہوں نے ختم نبوت کے ایسے معنی گھڑے ہیں جن سے قیامت تک ہزاروں لاکھوں جدید نبیوں کے لئے بروزی، عرضی ظلی ہکسی کی آڑ میں نبوت کا دروازہ کھول دیا‘( التنوير لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئله تکفیر ص 26) اس پر ایک اور بریلوی عالم دین جناب مولوی عبدالحکیم اختر شاہجہاں پوری صاحب نے درج ذیل حاشیہ چڑھا دیا نتيجة مندرجہ ذیل نکات مرزا صاحب کی شکل میں ظاہر ہوئے جو بالترتیب درج کئے جاتے ہیں م نانوتوی صاحب نے انبیاء کے افراد مقدرہ بتائے تو مرزا صاحب نے انبیاء کے افراد مقدرہ میں سے خود کو گنوا دیا۔