دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 36 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 36

36 ان میں سے بعض جواب میرے دیکھنے میں آئے جن میں فرمایا ہے کہ یہ خبیث کذابوں کا کذب خبیث ہے اس کو تو مکہ معظمہ میں وہ اعزاز ملا جو کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔وہا بیہ کی تو کیا شکایت کہ وہ اعداء ہیں۔ان کے افتراؤں نے بعض جاہل کچے سنیوں کو بھی میرے مخالف کر دیا تھا۔یہ بہتان لگا کر کہ یہ معاذ اللہ حضرت شیخ مجد دکو کافر کہتا ہے اور جب مکہ معظمہ میں علم غیب کا مسئلہ بفضلہ تعالیٰ باحسن وجوہ روشن ہو گیا تو اب یہ جوڑی کہ عیاذ باللہ یہ قدرت نبوی کو قدرت الہی کے برابر کہتا ہے کچھ نا سمجھ لوگ آیت کریمہ یا بھا الذین امنوا ان جاء کم فاسق بنبائي فتبینوا۔پر عمل نہ کرنے والے ان کے داؤں میں یعنی فریبوں میں آگئے۔مدینہ طیبہ میں ایک ہندی صاحب شیخ الحرم عثمان پاشا کے یہاں کچھ دخیل تھے۔یہ بھی ان کذابوں کی باتوں سے متاثر ہوئے۔(اعلیٰ حضرت کا سفر مدینہ مصنفہ مولوی احمد رضا خان ،صفحہ 46 ناشر مکتبہ اعلیٰ حضرت مزنگ لاہور ) مولوی احمد رضا خان صاحب کا جوابی حمله مولوی احمد رضا خان صاحب نے جیسے تیسے ان تینوں سوالوں کے جواب دے دیئے جس پر مسئلہ رفع دفع ہو گیا اور آپ کو سفر کرنے کی اجازت مل گئی۔مگر خاں صاحب کو ان دیوبندی حضرات پر بہت غصہ تھا جن کی وجہ سے ان کو حجاز میں جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی۔اس لئے انہوں نے فوری واپسی کرنے کی بجائے حساب برابر کرنے کا پروگرام بنایا اور اپنے وکیل مفوض شیخ صالح کمال کے ذریعہ شریف مکہ کے پاس پیغام بھجوایا کہ افسوس مجھ پر تو اس طرح لے دے ہو رہی ہے حالانکہ میں خواص اہل سنت سے ہوں مگر ایک شخص ( مولوی خلیل احمد سہارن پوری جو یہ محضر نامہ لے کر گئے تھے ) یہاں ایسا موجود ہے جو خدا کو جھوٹا اور شیطان کو رسول اللہ صلی اینم کہتا ہے اس پر کسی قسم کا مواخذہ نہیں کیا جاتا۔“ مزید یہ کہ i۔انہوں نے مولانامحمد قاسم نانوتوی کی کتاب تحذیر الناس میں سے ختم نبوت کی تفسیر والے حوالے۔ii۔مولوی رشید احمد گنگوہی کی کتاب سے کہ اگر کوئی اللہ کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ