دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 33
33 (ماہنامہ تجلی دیو بندی یوپی ، بحوالہ دیو بندی کتاب اعلیٰ حضرت احمد رضا خان کے کارنامے صفحہ : 34) کچھ عرصہ تک تو دیو بندیوں کا پلہ بھاری رہا۔مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد صورت حال بدل گئی۔بریلوی فرقہ کو مولوی احمد رضا خان کی شکل میں ایک تیز زبان لیڈر میسر آ گیا اور پھر جو انہوں نے جوابی مسند سنبھالی تو الامان والحفیظ۔وہ وہ الفاظ اور فتاویٰ سامنے آئے کہ دیو بندی اپنے تمام تر شیوخ الحدیث اور اقطاب عالم سمیت حیران و پشیمان نظر آنے لگے۔دیوبندی تعارف بریلوی نظر سـ مولوی عامر عثمانی کی طرح سرخیل بریلویت جناب احمد رضا خان صاحب بریلوی نے بنفس نفیس دیو بندیوں اور وہابیوں کی تصویر جو اپنے فرقے کے لوگوں کو دکھائی وہ یوں تھی فرقہ وہابیہ، شیطانیہ، ابلیس لعین کے پیرو، بے دین، مکار ، سرکش، کافر، بد بخت، دین کے دشمن ، خدا کے مشہور کافر معاند، مفسد گروہ شیطان، زیاں کار مردود، کمینے ،کچی والے مشرک ، ظالم ، ہٹ دھرم کا فر، دوزخ کے کتے ، فاجر کافر، دین سے خارج ، کافروں کے منادی، جاہلوں کو دھوکہ دینے والے کافروں کے راز دار ، کافران گمراہ گر ، سخت جھوٹے ، مفتری، ظالم، ان کی کہاوت کتے کی طرح کجر و مضل ، ملحد ، ان کا کافر ہونا پہروں دن آفتاب سا روشن، یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، انہیں بہرہ کر دیا۔ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔وہ دین سے نکل گئے۔خدا کی قسم وہ کافر ہو گئے۔وہابی ، فاجر، متمرد، ان پر کفر کا حکم ہے۔دہرئیے۔100 کافروں سے بدتر ، قیامت تک ان پر و بال گھناؤنی گندگیوں میں لتھڑے ہوئے ، کفری نجاستوں میں بھرے ہوئے۔ہر کبیرہ سے بدتر کبیرہ ہر ذلیل سے زیادہ ذلیل۔ان کا ٹھکانہ جہنم۔“ ( حسام الحرمین۔74،73، 75، 79 بحوالہ اعلیٰ حضرت، حیات اور کارنامے،صفحہ 31) ناپاک کتے مزید بعض دیوبندی حضرات کا نام لے کر فرماتے ہیں۔ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی، مفتی کفائت اللہ دہلوی، خان عبدالغفار خاں سرحدی