دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 24 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 24

24 واقعات کا ذکر تو در کنار پاکستان یا کسی شخص کوکوئی آفت پیش آ جائے کوئی افسوس ناک واقعہ رونما ہو جائے ، قائد ملت قتل کر دیئے جائیں یا ہوائی جہاز گر پڑے قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے نزدیک وہ ہمیشہ احمدیوں کی سازش کا نتیجہ ہوتا ہے۔“(ختم نبوت کے محافظ، صفحہ 70 مصنفہ محمد طاہر رزاق ناشر تحفظ ختم نبوت ملتان ) ایسے ہی ایک اور دیو بندی عالم دین مولوی منظور احمد چنیوٹی جن کو وکیل ختم نبوت اور کئی بار سفیر ختم نبوت کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔وہ اس سے بھی آگے قدم بڑھاتے ہوئے اعلان فرماتے ہیں کہ اگر سمندر کی تہہ میں بھی 2 مچھلیاں آپس میں لڑتی ہیں تو اس کے پیچھے بھی قادیانیوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔66 ہاں ہم پھکڑ باز بھی ہیں اور لوگوں کے جذبات سے کھیلتے بھی ہیں بات یہیں نہیں رکتی بلکہ جھوٹ کو منوانے کے لئے تمسخر اور پھکڑ بازی کا سہارا لیتے ہیں اور اسے فخریہ بیان کرتے ہیں مگر آخر کیوں؟ آغا شورش کا شمیری صاحب جیسا دیو بندی جناب عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی زندگی کا نمایاں وصف ہی پھکڑ بازی بتاتے ہیں۔ان کے ہاں طنز بھی ہے سخت قسم کا طنز لیکن سب وشتم نہیں جن چیزوں سے نفور ہوں ان سے تمسخر بھی روار کھتے ہیں۔ان کے ہاں اس تمسخر یا پھکڑ کی زدسب سے زیادہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی ذریات پر پڑتی ہے۔( سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحہ 194 از شورش ) اگر ہم پھکڑ بازہیں تو کیا ہوا؟؟ اس تمسخر یا پھکڑ بازی پر کوئی شرمندگی نہیں بلکہ فخر یہ اعلان فرماتے ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مجلس احرار کے خطیبوں میں جذباتیت پھکڑ بازی اور اشتعال انگیزی کا عصر غالب ہوتا ہے۔یہ ٹھیک ہے مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہماری قوم کی ذہنیت اور مذاق کیا ہے۔آپ ذرا حقیقت پسند، سنجیدہ اور متین بن جائیں پھر آپ مسلمانوں میں مقبول ہو