دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 100
100 داؤں پر لگانا چاہتے ہیں۔“ ہلیہ ” مقدس علم کے نیچے بخش اور بازاری گالیاں۔اور رحمۃ للعالمین کے نام پرلوٹ مار 66 مولوی منظور احمد نعمانی صاحب اپنے علماء کی ایسی حرکتوں پر افسردہ ہو کر شیخ تاج سبکی کے الفاظ کو درج فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔دو شیخ تاج سبکی نے طبقات الشافعیہ الکبری میں رنج اور غصہ کے ساتھ لکھا ہے کہ مامن امام الا وقد طعن فيه طاعون و هلك فيه هالكون یعنی امت کا کوئی امام ایسا نہیں ہے جس کو حملہ کرنے والوں نے اپنے حملوں کا نشانہ نہ بنایا ہو اور جس کی شان میں گستاخیاں کر کے ہلاک ہونے والے ہلاک نہ ہوئے ہوں۔“ فیصلہ کن مناظرہ ،صفحہ 14-15) اور آخر پر مولوی منظور احمد صاحب اپنا فیصلہ سناتے ہوئے قبریں اکھیڑتے ہوئے مولویوں اور انسانوں کے ذبح کرنے کے احکام دیتے ہوئے علماء کو تصور میں لا کر فرماتے ہیں۔اس خاص معاملہ میں خدا ترسی، حق بینی کی صلاحیت اور فہم سلیم کی دولت چھین لی گئی ہے۔“ اور وہ بظاہر عقل و ہوش رکھنے کے باوجود ان سے ایسی ایسی حرکتیں سرزد ہو رہی ہیں که عقل سلیم اُن کو کوئی توجیہہ بھی نہیں کر سکتی اور ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کا بیان ب لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها ولهم ء اذان لا يسمعون بها اوليك كالا نغم بل هم اضل اوليك هم الغفلون (سورہ اعراف (179) (فیصلہ کن مناظرہ ، صفحہ 14-15) انا لله وانا اليه راجعون۔بچو ا نہیں ہے آپ کے سوالوں کو جواب۔اگر آج جماعت پر ظلم ہورہا ہے اور اگر مخالفین احمدیت ظلم میں خدا ترسی، فہم سلیم اور عقل و ہوش کھو بیٹھے ہیں اور خدا ترسی سے دور جا پڑے ہیں تو یہی آپ کی سچائی کی دلیل اور ان سے ایسی ہی حرکات سرزد ہونا چاہئے کیونکہ