دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 98 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 98

98 وو سے منکر ختم نبوت“ ہونے اور ”جماعت احمدیہ اور بانی جماعت احمدیہ سے محبت“ کے الزام کو دھونے میں اللہ کی ہدایت کی بجائے اپنے نفس کی خواہشات اور اپنے ذاتی جذبات و خیالات کی ا پیروی کا فیصلہ کیا اور اس میں وہ اس حد تک آگے نکل گئے کہ اپنے ہی بانی پر طعن اور اسے ہواو حرص کا پیرو اور جس چیز کا تجھے علم نہیں اس میں دخل دینے والا “ اور ”قرآن میں زیادتی کرنے والا ماننے لگ گئے۔اور جی ہاں مولوی صاحب آپ کی یہ دوسری بات بھی سو فیصد درست ہے کہ دیوبندی مولوی کی مجبوری حب جاہ بھی ہے اور محب مال بھی ہے وہ غلط جذبات اور خواہشات بھی ہیں جن کے پیچھے چل کر وہ اللہ کی ہدایت سے دور نکل گئے ہیں۔جی ہاں مولوی صاحب یہ امام وقت کا انکار ہی ہے جس نے ان سے خدا ترسی "حق بینی کی صلاحیت اور فہم سلیم کی دولت چھین لی ہے۔جی مولوی صاحب آپ کا تجزیہ اس حد تک بالکل درست ہے کہ امام آخر الزماں مہدی دوراں اور مسیح الزماں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی اندھی مخالفت کا ہی شاخسانہ ہے کہ بظاہر عقل و ہوش کے باوجود اس سے اس معاملہ میں ایسی ایسی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں کہ عقل سلیم ان کی کوئی توجہ نہیں کر سکتی (فیصلہ کن مناظرہ ، صفحہ 14) وہ عبادالرحمن يمشون علی الارض ھونا کی بجائے اپنے آپ کو پھکڑ باز مسخرے، دروغ گو خنزیر اللہ ، دجال ، لوگوں کی جانوں مالوں سے کھلواڑ کرنے والے نعشوں کو اکھیڑ پھینکنے والے، مال و املاک کو لوٹنے اور انسانوں کو ذبح کر دینے کے احکام دینے والے ثابت کرتے ہیں۔مولوی منظور احمد نعمانی صاحب یہ سب کچھ دیکھ کر ہی فرماتے ہیں عقل و خرد کی گمراہی کی ایسی مثالیں اسلامی تاریخ کے بعد کے دوروں میں بھی بکثرت ملتی ہے جنہوں نے اپنے زمانے کے اچھے سے اچھے نہایت نیک سیرت بندوں کی عداوت و دشمنی و بدگوئی وایذاء 66 رسانی کو اپنا خاص مشغلہ بنایا وہ فخریہ اعلان کرتے ہیں۔احمدی بچے کی نعش دودن والدین لئے پھرتے رہے ہم نے دفن نہیں ہونے دی۔“ ہم مرزائیوں کی میت کی خوب مٹی پلید کرتے ہیں۔“ حمد احمدی جنازے والوں کو ہم نے خوب پیٹا اور واپس جا کر گھر کے صحن میں اپنی