دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 63
63 اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی اور کوئی نبی ہو تو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور رہتا ہے ، ص ۲۸ بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اسلم بھی کوئی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ گرق نہ آئے گا اگر ان صریح کفریات کا قائل اپنے کفر سے توبہ نہ کرے ہزار ہایہ اعلان بھی کرتار ہے کہ جو شخص نبی کریم ملایم و خاتم النبیین اور آخرالانبیاء نہ مانے کو وہ کافر اور ملحد ہے تو کیا اس سخن سازی سے اس کا وہ کفر مٹ جائے گا ؟؟ اس صورت میں تو آپ کسی قادیانی کو بھی کافر نہیں کہ سکیں گے۔لیجئے میں آپ کے سامنے قادیانیوں کی عبارات پیش کرتا ہوں ا۔۔۔امکان نبوت بعد از خاتم النبین سالا ایلیم کو ثابت کرتے ہوئے قادیانی صاحب لکھتے ہیں مولوی قاسم نانوتوی صاحب تحذیر الناس ص ۲۱ پر فرماتے ہیں بلکہ بالفرض بعد زمانہ نبوی۔۔پھر نتیجہ نکالتے ہیں پس آنحضرت صلی علیم کا خاتم النبین ہونا اور آپ کی شریعت کا کامل ہونا کسی طرح سے بھی ظلی نبوت کے دروازوں کو بند نہیں کرتا۔بلکہ اس کے برعکس پورے طور اُ رکھول دیتا ہے۔( تبلیغی ٹریکٹ ختم نبوت مطبوعہ قادیان ص ۱۵) ۲۔۔۔۔۔۔اگر یہی معنی جو ہم نے بیان کئے ہیں نہیں اور خاتم النبیین کا معنی نبیوں کو ختم کرنے والا ہے تو یہ نہ کوئی فضیلت کی بات ہے اور نہ کوئی کسی قسم کی خصوصیت حضرت سرور کائنات کی ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ آخری نبی ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں۔برخلاف اس کے جو معنی ہم نے پیش کئے ہیں ان سے آنحضرت مصلای ایام کی فضیلت تمام نبیوں پر ثابت ہے۔( بحث خاتم النبيين ص ۹) خدارا ضد اور تعصب کو چھوڑ کر دیانت اور انصاف سے غور فرمایا جائے کہ قادیانی صاحب کی ان عبارات اور نانوتوی صاحب کی عبارتوں میں کیا فرق ہے۔۔۔جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت سرور کائنات فخر دو عالم احمد مجتبی سالا ایلیم خاتم النبیین ہیں اور قرآن مجید آخری اور کامل شریعت ہے۔اور اب کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا