دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 62
62 بولے آپ کا فرمان ہمارا دین ہو گیا“ التنوير لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئله تکفیر ص 26,27 ”مرزا صاحب بھی نانوتوی کی طرح فنافی الرسول کو ظلی نبی مانتے ہیں“ مولوی غلام علی اوکاڑوی صاحب دیو بندی سرخیل مولانا قاسم نانوتوی پر مزیدطنز کرتے ہوئے بانی جماعت احمد یہ اور بانی دیوبند کی تفسیر ختم نبوت کا موازنہ ص 27 پر یوں پیش کرتے ہیں چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی نانوتوی صاحب کی طرح حضور کو سید الکل اور افضل الانبیاء ماننے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنے آپ کو لی اور عکسی نبی ظاہر کرتا ہے“ آگے ص 30 پر مزید فرماتے ہیں یعنی نبوت کی یہ تقسیم کہ۔۔۔حضور کی نبوت اصلی ہے اور باقی انبیاء کی کسی اور ظلی۔یہ خالص مرزائی نظریہ کی تائید ہے۔۔۔قادیانیوں اور ان کے ہم نواؤں کا یہ استدلال سراسر باطل ہے کہ جو شخص فنافی الرسول ہو اور حضور کی کمال اطاعت واتباع سے اس کو یہ مقام حاصل ہو اس کو نبی کہہ سکتے ہیں اور اس سے حضور کی ختم نبوت میں کچھ فرق نہیں آتا۔کیونکہ تمام کمالات کا اصل حضور ہی ہیں اور فنافی الرسول کے کمالات ظلی اور عکسی طور پر ہیں۔اگر اس استدلال کی رو سے فنافی الرسول کو نبی اور رسول کہا جا سکتا ہے تو کیا جس شخص کو فنافی اللہ کا مقام حاصل ہو، اسے اللہ کہا جائے گا“ (التنوير لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئلہ تکفیر ص27 اور 30) اگر نانوتوی صاحب درست ہیں تو دیوبندیوںکوکسی قادیانی کو کافر کہنے کا کوئی حق نہیں۔۔مولوی غلام علی قادری اوکاڑوی بریلوی امت کے شیخ القرآن ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے دیوبندی مولوی منظور احمد سنبھلی کو کرتے ہوئے فرماتے ہیں اگر بقول سنبھلی صاحب نانوتوی صاحب کی ص 3 کی عبارت۔۔ص ۱۴