دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 35
35 مولوی احمد رضا خان کو حجاز میں سزا دلوائی جائے دیوبندی مولوی حسین احمد نجیب اس محضر نامے کی ضرورت کے متعلق فرماتے ہیں۔اس محضر نامے کو بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں چونکہ انگریزی حکومت اس شخص کی پشت پناہی کر رہی ہے جس کی وجہ سے اس کے خلاف عدالت میں کوئی کارروائی عمل میں نہیں آسکتی۔لیکن خطہ عرب میں چونکہ مسلمانوں کی حکومت ہے اور وہ مسلمانوں اور علمائے اسلام کے ایسے بدخواہ کو قرار واقعی سزا دے سکتی ہے۔( عقائد علمائے دیو بند اور حسام الحرمین ، صفحہ 25-26) مولوی احمد رضاخان حجاز کی جیل میں مولوی احمد رضا خان صاحب کو فوری طور پر جیل میں ڈال دیا گیا۔بعد ازاں آپ کو شریف مکہ کے سامنے پیش کیا گیا۔چونکہ خاں صاحب کے عقائد و نظریات کے بارے میں کوئی ایسی کتاب مکہ مکرمہ دستیاب نہ تھی جس سے ان کے عقائد معلوم ہو سکتے۔البتہ مولوی عبدالسمیع را مپوری کی کتاب انوار الساطعہ پر ان کی ایک تقریظ موجود تھی اُسی تقریظ کو بنیاد بنا کر مندرجہ ذیل تین سوالات مرتب کر کے خاں صاحب کو دیئے گئے کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ 1 - رسول اللہ صلی یہ تم کو ازل سے ابد تک کی جملہ چیز میں معلوم ہیں۔2۔آپ سے کائنات کی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہ تھی۔3۔آپ نے تقریظ کے آخر پر لکھا ہے وصلى الله على من هو الاول والاخر والظاهر والباطن اور حکم دیا گیا کہ ان تینوں سوالوں کے جواب فوری لکھو اور اپنا عقیدہ بیان کرو جب تک ان سوالوں کا جواب نہ دے دو گے تمہیں سفر کرنے کی اجازت نہیں۔احمدرضاخان صاحب کا اپنابیان مولوی احمد رضا خان نے اپنے سفر مدینہ کا مکمل حال کتابی شکل میں شائع فرما یا ہوا ہے۔آپ اس واقعہ کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ