دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 23
23 23 عوام بھی بے چارے مجبور ہیں۔کچھ لوگ دنیاوی مفاد کی خاطر اپنے آپ کو دیو بندی کہتے ہیں مگر علمائے دیوبند کے اجماعی عقائد کے منکر ہیں۔صالحیہ کرامیہ اور خارجیوں کے عقائد جمع کر کے اس ملغوبے کا نام تو حید رکھ لیا ہے اور اس تکلیفی توحید کے پر چار کے لئے دیوبندیت کا اصیح استعمال کیا۔سننے والے سمجھیں دیو بندیت یہی ہے۔انہیں کون بتائے کہ یہ بہروپئے تو حنفیت سے بھی کوئی واسطہ نہیں رکھتے بلکہ وہ تو اپنے آپ کو اہل سنت والجماعۃ بھی ثابت نہیں کر سکتے۔“ ( عقائد و کمالات علمائے دیوبند مصنفہ مولوی اللہ یار خاں ، صفحہ 72-73 ناشر اداره نقشبندیہ اویسیہ دارالعرفان مناره ضلع چکوال) مولوی اللہ یار خاں اپنے ہی دیوبندی علماء بھائیوں کو بہروپئے ، صالحہ کرامیہ اور خارجیوں کا خوشہ چین بتاتے ہیں تو ان میں سے ایک مشہور اور روح رواں مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اپنے آپ کو خنزیر اللہ فرماتے ہیں (بخاری کی باتیں صفحہ 172) بلکہ ایک دوسری جگہ پر اپنے آپ کو فخریہ دجال بتا تے ہیں چنانچہ شاہ صاحب نے 15 مئی 1935 ء کو لاہور میں ایک جلسہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف انتہائی دل آزار تقریر کی اور اس میں جماعت کا تمسخر اڑاتے اڑاتے اپنے متعلق فرمایا جس کا ایک فقرہ اخبار احسان میں یہ شائع ہوا کہ خدا نے بخاری کو مرزائیوں کے اوپر دجال بنا کر بٹھا دیا ہے“ ( بحوالہ الفضل 23 رمئی 1935ء، صفحہ 7 کالم 4) حال ہی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے پلیٹ فارم سے مولوی محمد طاہر رزاق صاحب کی ایک کتاب ختم نبوت کے محافظ شائع کی گئی ہے جس میں دیو بندی حضرات کے نمایاں کارناموں کو جمع کیا گیا ہے۔اس کتاب کے صفحہ 70 پر قاضی مولوی احسان احمد شجاع آبادی کی زندگی کا نچوڑ جسے تحقیقاتی عدالت پنجاب ہائی کورٹ منیر انکوائری رپورٹ میں جج صاحبان نے بطور فیصلہ درج کیا تھا، فخریہ انداز میں اپنے کارناموں میں جگہ دے کر یوں لکھا گیا۔قادیانیت کی مخالفت اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد معلوم ہوتا ہے۔۔۔زیادہ اہم