دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 13
13 باب نمبر 1 لاہور کا ایک مذہبی دنگل یہ اوائل 1930ء کی بات ہے۔لاہور کی سرزمین پر بریلویوں اور دیوبندیوں کا ایک یادگار مناظرہ ہونا طے پایا۔جس کے لئے حکم کے طور پر علامہ ڈاکٹر اقبال، پروفیسر اصغرعلی روحی اور شیخ صادق حسن امرتسری بیرسٹرایٹ لاء جیسی قد آور شخصیات کے نام تجویز ہوئے جسے انہوں نے قبول کر لیا۔دیو بندیوں کی طرف سے مولوی محمد منظور نعمانی اور بریلویوں کی طرف سے مولوی حامد رضا خاں ( خلف اکبر مولوی احمد رضا خان) مناظر مقرر ہوئے۔پورے لاہور میں زور و شور سے اس مناظرے کے لئے تیاریاں جاری تھیں۔ارد گرد کے دیہاتوں سے بھی علماء شہر میں پہنچ چکے تھے۔ہر مسجد میں مولوی حضرات اپنے اپنے فرقے کے لوگوں کے خون کو خوب گرما رہے تھے اور پیش وقت فتح کی نویدیں سنا رہے تھے۔کتابوں کے چھکڑوں کے چھکڑے جمع ہورہے تھے۔گویا کہ ایک دنگل تھا جس کی تیاری پوری حرارت کے ساتھ جاری تھی کہ اچانک بریلویوں کی طرف سے بلوے کے خطرے کو بنیاد بنا کر معذرت کا اعلان کر دیا گیا۔تصویر کا رخ بدل گیا۔دیوبندی حضرات اسے فتح مبین کے نام سے معنون کر کے فتح کے ڈھونگرے برسانے شروع ہو گئے۔تو بریلوی حضرات اسے گستاخانِ رسول کی حکومت سے ملی بھگت اور فسادی ہونے کی نوید سنانے لگ گئے۔اس تمام ہنگامے میں مولوی منظور احمد نعمانی دیوبندی نے اپنا وہ بیان جو انہوں نے اس مناظرے میں پڑھنا تھا تحریری شکل میں فیصلہ کن مناظرہ کے نام سے شائع کر دیا۔اور آغاز کے طور پر عقل اور عقل نہی کے حوالے سے ایک دلچسپ تجزیہ پیش کیا۔