دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 71
71 بلوایا تھا۔حضرت مولانا گھوٹوی نے ان اکابرین دیوبند کا جس حسن عقیدت سے استقبال کیا اس نے مولانا احمد رضا خان کے فتاویٰ تکفیر کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں“ (مطالعہ بریلویت ص 166 بحوالہ محاسبہ دیوبندیت ص 448) بریلوی عالم دین جناب محمد حسن رضوی صاحب اس حوالے کو درج کر کے بتاتے ہیں کہ کیوں آخران دیو بندیوں کو ہی ختم نبوت کی تشریح کے لئے بلوایا گیا اب سنئے اصل واقعہ کہ کیوں ان دیوبندی مولویوں کو دیو بند سے بہاولپور بلوایا گیا۔واقعہ یہ ہے کہ سابق ریاست بہاولپور میں ایک مسلمان عورت کا کا وند مرزائی ہو گیا تھا۔اس پر عورت نے عدالت میں شوہر کے ارتداد کی وجہ سے فسخ نکاح کی درخوست دے دی۔مقدمہ عدالت میں دائر ہوا اس واقعہ پر قادیانیوں نے بانی مدرسہ دیو بند مولوی قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس۔امداد الفتاویٰ اور تذکرۃ الرشید وغیرہ کتب کا سہارا لے کر۔۔۔۔خود کو مسلمان ثابت کرنے لگے اور کہا گیا کہ خاتم النبیین کا جو معنی مفہوم مولا نا قاسم نانوتوی کہتے ہیں وہی مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں تو ہم کا فرومرتد کیوں؟؟ ہمیں تھانوی صاحب اور گنگوہی صاحب نے اپنی کتابوں کے پہلے ایڈیشنوں میں مسلمان مانا ہے صرف فسق کا فتویٰ دیا ہے اس لئے عورت کا نکاح کیوں فسق کیا جائے؟ اس لئے مولا نا گھوٹوی صاحب نے نہیں بلکہ عورت کے وارثوں نے مولوی انورشاہ کشمیری دیو بندی وغیرہ کو بلوا کر مجبوراً اُن سے کہلوایا کہ ہم بھی ختم نبوت کو مانتے ہیں اور منکر ختم نبوت مرتد ہے اور مرتد سے نکاح فاسد ہوجاتا ہے ویسے بھی مولوی انورشاہ کشمیری نے فیض الباری میں جلد 3 ص 333 ، 334 پر تحذیرالناس کے پیش کردہ جدید معنوں پر شدید تنقید کی ہے اور جس کو یہ مفتی اعظم محمد شفیع کہتے ہیں اس نے بھی ہدیۃ المہدین ص 21