دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 56
56 درجہ کا ہو یا بعض سے اعلیٰ اور بعض سے اسفل ہو۔دوم۔۔ختم رتبی اور ذاتی اس سے عبارت ہے کہ مراتب نبوت کا اس پر خاتمہ ہوتا ہو۔اس سلسلہ میں کوئی اس سے بڑھ کر نہ ہو۔جتنے مرتبے اس سلسلے کے ہوں سب اس کے نیچے اور محکوم ہوں “ ( الشہاب الثاقب ص 83) خاتم مرتبی کی وجہ سے ہرزمانےکاہرمرتبہ آپ کا مطیع ہوگا۔۔۔۔۔۔بانی دیوبند بریلوی مولوی غلام علی اوکاڑوی صاحب مولوی حسین احمد مدنی دیوبندی کے اس قول پر تتبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں " ٹانڈوی کی اس ترجمانی کا خلاصہ یہ ہوا کہ اگر خاتم النبین سے ختم زمانی مراد لی جائے تو اس سے حضور علیہ السلام کا سب نبیوں سے افضل ہو نا لازم نہیں آتا۔کیونکہ آخر الزماں چاہے پہلے والوں سے افضل ہو یا سب سے کم درجہ کا یا بعض سے اعلیٰ اور بعض سے اسفل ہو۔اور خاتم ذاتی کا معنی چونکہ سب کا سردار اور رئیس اعظم ہے۔اگلے پچھلے اور اس کے زمانے والے سب اس کے خوشہ چین ہوں گے وہ ان میں سے کسی کا محتاج نہیں ہوگا۔لہذا بنظر اس کے علو مرتبہ اور اس کی ذات والا صفات کے نہ زمانہ اول ضروری ہے نہ اوسط نہ آخر۔بالفرض اس کے زمانے میں کوئی نبی پیدا ہو جائے یا اس کے بعد۔اس زمین یا کسی اور زمین میں تجویز کر لیا جائے تو اس کی خاتمیت میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔کیونکہ اس کے زمانہ میں یا اس کے بعد جو نبی پیدا ہو گا وہ اس خاتم ذاتی کاظل ہوگا۔عکس ہوگا۔اس کی نبوت بالعرض ہوگی۔اس نے نبوت کا استفادہ اس خاتم ذاتی سے کیا ہوگا“ التنوير لدفع ظلام التخذير یعنی مسئلہ تکفیرس 21,22) خاتم کا مضاف الیہ وصف نبوت ہے نہ کہ زمانہ نبوت۔بانی دیوبند بریلوی مولوی غلام علی اوکاڑوی صاحب مولا نا قاسم نانوتوی کومزید حوالہ پیش کرتے ہوئے