دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 15
15 اس کی دوسری مثال اُمت میں لیجئے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم۔یہ چاروں بزرگ رسول اللہ صلی شما ایلم کے جلیل القدر صحابی ہیں اور اسلام اور پیغمبر اسلام کی تاریخ سے کچھ بھی واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ ورسول کے ساتھ اُن کی وفاداری، ان کا اخلاص ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا تر ہے۔لیکن غور کیجئے اس اُمت کی تاریخ کا یہ کیسا عجیب وغریب اور نا قابل فہم واقعہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور ہی میں خود مسلمانوں میں ایسے مستقل فرقے پیدا ہوئے جن کی خصوصیت اور جن کا امتیاز صرف یہی ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی علیم کے ان جلیل القدر صحابہ کے ایمان ہی سے انکار تھا اور وہ معاذ اللہ ان کو کافر و منافق اور گردن زدنی کہنے پر مقر تھے۔اور اب تک بھی یہ فرقے دنیا میں موجود ہیں۔کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں کا قدیم ترین فرقہ شیعہ کی خصوصیت اور اُس کا امتیاز ہی یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ، عمر، عثمان ، کی عداوت و بدگوئی۔۔۔۔۔اور ان پاک ہستیوں پر تبر بازی ان کا محبوب مشغلہ اور ان کے نزدیک کار ثواب ہے۔خلاف عقل مجادلا نہ کج بحثیوں کو تو چھوڑ دیجئے اور پھر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ کیا کسی کی عقل بھی ان لوگوں کے اس طرز عمل کی کوئی معقول تو جیہ کر سکتی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس فرقے والے سب پاگل اور عقل عام سے محروم ہیں واقعہ یہ ہے کہ ان میں بڑے بڑے تعلیم یافتہ بڑے بڑے دانشور اور ایک سے ایک ذہین وفطین ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔یہی حال ان کے اصل حریف اور مد مقابل فرقہ یعنی خوارج و نواصب کا ہے ان بدبختوں کے نزدیک سیدنا علی ایسے بددین، اس درجہ کے دشمن اسلام اور ایسے مجرم اور گردن زدنی تھے کہ ان کو ختم کر دینا نہ صرف کار ثواب بلکہ ان کے قاتل کے جنت میں پہنچنے کا یقینی ذریعہ تھا۔شقی ابن مالنجم سیدنا حضرت علی پر قاتلانہ حملہ کر کے گرفتار ہونے کے باوجود نعرے لگا تا تھا فزت و رب الکعبہ۔