بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 5
5 ولانا سید امجد علی صاحب اشہری کا بیان ہے۔ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ میں حیدر آباد میں جناب مولوی سید علی حسن خان صاحب سابق ناظم بند و بست ممالک محروسه سرکار نظام خانا روینو ممبر کو نسل ریاست اندور کے بنگلہ پر شریک جلسہ تھا۔اس نی خدا نشے ملا محمد عبد القیوم صاحب مرحوم تعلقہ دار اول کے بھائی مولوی محمد عبد الحی صاحب مددگار بند و بست تشریف لائے اور شعر و سخن کا ذکر کلا۔سب صاحب متوجہ ہو بیٹھے۔جب اپنی اپنی باری ہو چکی تو دوسرے اساتذہ کا نمبر آیا۔میں نے میرا نیس کا یہ مطلع پڑھا۔خود نوید زندگی لائی قضا میرے لئے شمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لئے کی یا لاثانی مطلع ہے۔مولانا عبد الحی صاحب نے یہ مطلع سن کر اسی مضمون کا ایک فارسی شعر پڑھا اور آخر کو خود فرمایا کہ یہ میر صاحب کو توارد ہوا ہے یا جان بوجھ کر اسی مضمون کو اپنی زبان میں ادا کر دیا ہے اور دکھایا ہے کہ جو مضمون فارسی میں بے ساختگی سے ادا نہ ہو ، اس کو اردو میں یوں ادا کرتے ہیں۔" ( حیات انیس صفحہ ۲۶۱ مطبوعہ مطبع آگرہ اخبار " آگرہ") مشاہیر سخن کے کلام میں توارد ان کی بدیہہ گوئی ، برجستگی ، فصاحت و بلاغت اور قادر الکلامی کا پتہ دیتی ہے۔اسی لئے اہل زبان خاص اہتمام سے اس کا تذکرہ کرتے آ رہے ہیں اور دور قدیم و جدید کے مشہور یکتائے فن کی نگارشات کا باہم موازنہ و مقابلہ ادب کا گل سرسید تسلیم کیا گیا ہے۔اس میدان میں علمی جو ہر دکھلانے والوں کا نام محسنین ادب کی حیثیت سے نہایت درجہ اعزاز و اکرام کا مستحق ہے اور آنے والی نسلیں ان پر ہمیشہ فخر کریں گی۔اس کے برعکس اصناف سخن کی ایک انوکھی اور عجیب و غریب نوع بالخصوص