بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 20
20 20 نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جس کا نور کے ہوتے بھی دل اعملی نکلا جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا ۵- "مولانا" صالح محمد صاحب حنفی " خطبات الحنفیہ " پنجاب کے حنفی عالم مولانا صالح محمد صاحب مرحوم کی مشہور تالیف ہے جو شیخ سراجدین اینڈ سنز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو چکی ہے۔کتاب کے صفحہ ۲۲۱ پر "۔تیسواں وعظ فضائل ماہ رمضان" کے زیر عنوان پر حسب ذیل ۱۲ اشعار درج ہیں جن میں سے شعر نمبر ۶۔۷ اور ۹۔۱۰ کے سوا کتاب براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۶۸ (مطبوعہ ۱۸۸۲ء) سے کچھ تصرف کے ساتھ مستعار لئے گئے ہیں:۔ا۔اے عزیزو سنو کہ بے قرآن حق کو پاتا نہیں کبھی انساں نیکی کا کچھ اثر ہی نہیں ۲۔جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں ان ۳۔ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر اس سے ہے خالق اکبر ۴۔کوئے حق میں یہ کھینچ لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے - دل میں ہر وقت ور بھرتا ہے سینے کو خوب صاف کرتا ہے کجروی راہ نیکی کی یہ دکھاتا ہے ہیں بچاتا ہے